.

کروناوائرس:جی سی سی کے رکن ممالک میں عربی زبان کی کلاسوں میں ریکارڈ داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے رکن ممالک میں کروناوائرس کی وَبا کے دوران میں غیرملکی تارکینِ وطن نے اپنی پیشہ ورانہ اور تعلیمی صلاحیت بڑھانے کے لیے عربی زبان کی کلاسوں میں ریکارڈ تعداد میں داخلہ لیا ہے۔

دبئی میں گذشتہ 40 سال سے قائم مرکزلسان عربی کی ڈائریکٹر شیریں سینو بتاتی ہیں کہ کروناوائرس کی وَبا کے عروج کے دنوں میں اس خطے کی مادری زبان سیکھنے میں بھرپوردلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے اور گذشتہ سال اپریل سے دسمبر تک عربی زبان سیکھنے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا تھا کیونکہ لوگ اپنے فارغ اوقات کا مفید استعمال چاہتے تھے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’عربی زبان سیکھنے والوں کی تعداد میں اضافے کے کئی ایک عوامل ہوسکتے ہیں۔ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ بہت سے لوگ گھروں میں بیٹھ کر آن لائن کام کرتے رہے ہیں،بعض طلبہ کا لچک دار شیڈول تھا ،اس وجہ سے انھیں عربی سیکھنے کے لیے بھی وقت مل گیا۔‘‘

شیریں سینو کا کہنا تھا کہ کروناوائرس کی وَبا کے آغازمیں بعض لوگ ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے،اس وجہ سے بھی انھیں اپنی تعلیم جاری رکھنے کا موقع مل گیا۔نیز بعض نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ اپنے لیے ملازمت کے مواقع کو بہتر بنا سکیں۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’ کسی غیرملکی زبان کا علم بہت سے بھرتی کنندگان کے نزدیک ایک اثاثہ ہوتا ہے۔بالخصوص اگر میزبان ملک کی سرکاری زبان عربی ہوتواس کا سیکھنا فائدہ مند ہی ثابت ہوسکتا ہے‘‘۔

انھوں نے وَبا کے دوران میں عربی سیکھنے کی ایک اور وجہ سماجی تعامل اور شراکت داری بتائی ہے کیونکہ وبا کی وجہ سے لوگ گھروں میں محصورہوکر رہ کر رہ گئے تھے اور دوسروں کے ساتھ ربط وتعلق قائم رکھنا چاہتے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں 42 کروڑ سے زیادہ افراد عربی زبان بولتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات عربی زبان کے تحفظ کے لیے مختلف اقدامات کررہا ہے۔وہ اس کو قومی زبان کے طور پر فروغ دے رہا ہے اور اسکولوں کے نصاب میں عربی کی تدریس کو نمایاں اہمیت دی گئی ہے تاکہ نئی نسل اپنی زبان ہی بولے اور انگریزی کو اس پر ترجیح نہ دے۔

نسرین سینو نے العربیہ سے گفتگو میں اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ کووِڈ-19 کی وبا کے دنیا بھرمیں ویسے تو زیادہ ترتاریک پہلو ہی سامنے آئے ہیں لیکن اس کے بعض مثبت پہلو بھی سامنے آئے ہیں۔ان میں ایک یہی ہے کہ ہم نے آن لائن عربی کی تدریس شروع کردی اور ناظرین کی بڑی تعداد تک پہنچنے میں کامیاب رہے ہیں،ورنہ عام حالات میں اور بالمشافہ جماعتوں میں تو ایسا ممکن نہیں ہوتا۔اس وقت ہم آن لائن اور بالمشافہ دونوں طرز میں اسباق پیش کررہے ہیں اوریو اے ای سے اپنے آبائی ممالک کو لوٹنے والے وہیں سے کلاسیں لیتے رہے ہیں اور لے رہے ہیں۔