.

سڑکوں، بازاروں اسکولوں سے طبی مراکز تک ویکسی نیشن کا دلچسپ سفر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کرونا کی وبا کے پھیلائو کے بعد اس کی روک تھام کے لیے ویکسین کے عمل تک حکومت کے حسن انتظام کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ سعودی عرب کے بزرگ شہریوں‌ سے بات کی جائے تو وہ گواہی دیتے ہیں کہ سعودی حکومت نے ہمیشہ شہریوں کی جانوں کی حفاظت اوران کی صحت وسلامتی کو ہر چیز پرمقدم رکھا ہے۔

بزرگ سعودی باشندوں کا کہنا ہے کہ مملکت میں ویکسین لگوانے کا عمل پہلی بار نہیں ہو رہا ہے بلکہ برسوں پہلے بھی ویکسین لگائی جاتی تھیں۔ تاہم فرق صرف یہ ہے کہ گذرے وقتوں میں ویکسین سڑکوں، بازاروں اور اسکولوں میں لگوائی جاتی تھی مگر اب حکومت نے ایک قدم اور آگے بڑھ کرویکسی نیشن سینٹرز قائم کیے ہیں جہاں پر شہریوں کو پورے اہتمام اور تسلی کے ساتھ ویکسین لگائی جاتی ہے۔

مملکت میں 80 سال قبل سنہ 1939ء میں پہلی بار چیچک کی ویکسین لگائی گئی۔ سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود ڈاریکٹوریٹ جنرل برائے صحت کو ہدایت کی تھی کہ وہ اسپتالوں کو ویکسین لگوانے کے لیے کھول دیں۔ اس کے بعد بھی کئی وبائی امراض کے لیے ویکسین لگوائی گئی۔ پیدائش کے بعد بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگانے کا سلسلہ بھی برسوں‌پرانا ہے۔ برسوں سے سے مملکت میں بچوں اور بڑوں تپ دق، ڈفتھیریا ، تشنج ، پولیو ، کالی کھانسی اور خسرہ جیسے امراض سے بچائو کے لیے ویکیسن لگوائی جا رہی ہیں۔

سعودی محقق سعود عبدالغنی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انیس سو ساٹھ کے عشرے میں آج سے 50 سال قبل مملکت میں اسپتال محدود تعداد میں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ویکسین لگوانے کا عمل بازاروں، پبلک مقامات اور اسکولوں میں انجام دیا جاتا۔ چیچک اور تپ دق، ملیریا، ہیضہ اور پولیو جیسے امراض کی ویکسینیں اسکولوں اور پبلک مقامات پر لگائی جاتیہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ چیچک کی ویکسین سعودی عرب میں 'تعضیب' کہا جاتا تھا۔ امراض سے بچائو کے لیے کام کرنے والے سعودی محقق سلطان المطیری نے العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ کو بتایا کہ 1360ھ کا سال مملکت میں ویکسین کا سال کہا جاتا ہے۔ اس سال سعودی عرب میں چیچک سمیت کئی دوسرے امراض سے بچائو کے لیے ویکسینیں لگوائی گئی۔