.

صحت : وائٹ بریڈ اور پاستا کی زیادتی امراض قلب کا سبب بن سکتی ہے !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئی طبی تحقیق میں وائٹ بریڈ (سفید ڈبل روٹی) ، پاستا (مکرونی) اور دیگر خالص زرعی اجناس کے وافر استعمال کے سنگین خطرات سے خبردار کیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق ان اشیاء کے کھانے میں زیادتی جلد اموات کا سبب بھی بن سکتی ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے اس سلسلے میں کینیڈا میں ہونے والی ایک تحقیق کے نتائج کا حوالہ دیا ہے۔ کینیڈا کی McMaster University کی جانب سے کیے جانے والے تحقیقی مطالعے میں 9 سال کے دوران میں دنیا کے 21 ممالک کے 1.37 لاکھ افراد کو شامل کیا گیا۔ نتائج کے مطابق جو لوگ "خالص اجناس" (صاف کی ہوئی) کا بکثرت استعمال کرتے ہیں ان میں "پوری اجناس" (بغیر صاف کی ہوئی) استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں دل کے دورے اور فالج کے حملے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

صاف کی ہوئی اجناس کی مصنوعات میں ڈبل روٹی، غلے کی اجناس، میٹھی اشیاء اور پیسٹریز اہم ترین ہیں۔

اناج کو "مکمل" اس وقت شمار کیا جاتا ہے اگر وہ تمام تین حقیقی اجزاء بھوسی چھلکا، تخم اور جرثومہ پر مشتمل ہو۔ تاہم اگر ان تین میں سے کوئی ایک یا اس سے زیادہ اجزاء نکال دیے گئے ہوں تو پھر یہ "خالص" (چھنا ہوا) اناج بن جاتا ہے۔

امریکا میں US Full Grain Council کا کہنا ہے کہ اناج کی صفائی کے نتیجے میں اناج میں سے ایک چوتھائی پروٹین زائل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نصف سے لے کر دو تہائی غذائی عناصر برباد ہو جاتے ہیں۔

طبی تحقیق کے مطابق جن افراد نے ایک دن میں صاف اور چھنے ہوئے اناج کے 7 سے زیادہ ٹکڑے کھائے ان میں جلد اموات کا تناسب 27% بڑھ گیا۔ اسی طرح ان افراد میں دل کے امراض کا شکار ہونے کا تناسب 33% اور فالج کے حملے کا امکان 47% زیادہ ہوتا ہے۔

تحقیق کے نتائج کی بنیاد پر محققین نے ہدایت کی ہے کہ چھنے ہوئے اناج کو دیگر دستیاب متبادل سے تبدیل کیا جائے۔ ان متبادل اشیاء میں مکمل اناج (بغیر چھنا) مثلا براؤن رائس اور جو شامل ہیں۔