.

سعودی شہری نے 'پی ایچ ڈی' مقالے کو 'واک ویز' کے ذریعے کیسے نافذ کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمالیاتی پہلوؤں کو اپنے تخلیقی مشن میں شامل کرنا ذرا مشکل کام ہے مگر سعودی عرب میں ایک شہری نے پی ایچ ڈی کی ڈگری کے تھیسز میں جدہ کے ساحل پر واقع واکنگ ٹریکس کو خوبصورت فن پاروں میں بدل کر حیرت زدہ کردیا۔

پی ایچ ڈی ڈاکٹر عادل الزہرانی نے مغربی سعودی عرب کے شہر جدہ کے واٹر فرنٹ پر 'واک ویز'کو دلفریب رنگوں اور دلکش شکلوں میں ڈھال کر جدہ کے ساحلی علاقوں کی رونق کو ایک نیا آہنگ دیا ہے۔'کلر کرونیکل' کے عنوان سے شروع کردہ اس اقدام کو 'جدہ آئیز چیریٹی ایسوسی ایشن' اور جدہ گورنری کے تعاون سے نافذ العمل کیا گیا۔ اس منفرد پروگرام کا مقصد جدہ شہر کے اہم چوکوں، میدانوں اور مراکز کے خوبصورت منظر کو زیادہ پرکشش بنانا ہے۔

اس منفرد صحت مند اقدام کے مالک اور ایگزیکٹو ٹیم کے رہ نما ڈاکٹر عادل الزہرانی نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس اس ضمن میں متعدد خیالات تھے۔ میں سوچتا کہ ویژن 2030 کے اہداف کے مطابق ایک زندہ اور تعمیری سوسائٹی سے نکلنے والے اقدامات اور سرگرمیوں کے لیے وطن عزیز کی منفرد انداز میں کیسے خدمت کی جائے اور عالمی مہارتوں سے ہم کیسے استفادہ کرسکتے ہیں۔ مجھے اپنی مہارت اور شوق کے مطابق جگہوں اور شہروں کو زندگی سے بھر پور بنانے کا جنون جو تھا۔ یہ میں نے سعودی عرب سے باہر رہتے ہوئے سیکھا تھا۔

انہوں نے کہا ان کےذہن میں اس بارے میں پہلی بار خیال 2019ء میں آیا۔ یہ پروگرام دراصل عوامی مقامات میں جگہ سازی کے کردار سے متعلق میری پی ایچ ڈی ریسرچ کے نظریات کی توسیع کا حصہ ہے لیکن اس بار ایک قابل اطلاق انداز میں ہمارے پیارے وطن میں زمین پر میں نے کھلی عوامی جگہوں کو تبدیل کرنے کی تجویز کی تیاری کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے۔ جدہ کورنیچ میں ایک کھلی عوامی جگہوں کو فنون کی شکل میں تبدیل کرنا اس کا ہدف تھا۔ اہداف کا تعین ،بینچ مارک ، وژن، سائٹ کا تجزیہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ طے کرنا تھا کہ واٹرفرنٹ واک وے ، ابتدائی ڈیزائن اور فزیبلٹی اسٹڈی ، اور جدہ کے رہائشی برادری کو کیسے یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تجویز جدہ آئی ایسوسی ایشن کے سربراہ انجینیر انس صیرفی کو پیش کی گئی۔ ان کی طرف سے منظوری کے بعد اسے جدہ کے میئر اور اس کے بعد گورنر جدہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ان سب کی طرف سے تعاون، حوصلہ افزائی اور سہولیات کی فراہمی کی یقینی دہانی کے بعد ایک ڈیزائننگ ٹیم تشکیل دی گئی۔ منصوبے کی ڈیزائننگ کے بعد اس پرعملدرآمد کرنے والی ٹیم ، لاجسٹک ٹیم اور رضاکارانہ رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی اور ایک ٹیم کو دستاویزی کام تیار کرنے کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پہلے مرحلے میں 200 میٹر واکنگ ٹریک پر کام کیا گیا۔ دوسرے مرحلے پر آئندہ جمعرات سے کام شروع کیا جائے گا۔ اب تک 350 رضاکاروں نے اس اقدام میں حصہ لیا ہے۔