انٹرنیٹ پر اجارہ داری کی ’بدعت‘ جلد ختم ہو جائے گی: ٹم برنرز لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انٹرنیٹ کے موجد ٹم برنرز لی نے کرونا کی عالمی وبا کے بعد انٹرنیٹ کی نوجوانوں تک رسائی کو ممکن بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی بڑی تعداد اس وقت انٹرنیٹ سے محروم ہے۔

ورلڈ وائڈ ویب [انٹرنیٹ] ایجاد کی 32ویں سالگرہ کے موقع پر شائع ہونے والے خط میں ٹم برنرز لی نے کہا کہ نوجوانوں کا اثر و رسوخ آن لائن نیٹ ورکس کے علاوہ ان کی کمیونٹی میں بھی محسوس کیا جاتا ہے، لیکن نوجوانوں کی بڑی تعداد کو انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے کے باعث اپنی قابلیت اور خیالات شیئر کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔

انٹرنیٹ کے بانی ٹم برنرز نے کہا کہ نوجوانوں کی ایک تہائی آبادی کو انٹرنیٹ تک بالکل رسائی حاصل نہیں ہے، کئی نوجوان ایسے ہیں جو انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے ڈیوائسز یا مؤثر کنیکشن نہ ہونے کے باعث ویب سائٹس کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

ٹم برنرز نے کہا کہ 2 ارب 20 کروڑ نوجوانوں کے پاس انٹرنیٹ کا پائیدار کنیکشن ہی موجود نہیں ہے جس کے باعث وہ کرونا کے دوران آن لائن تعلیم نہیں حاصل کر سکے، جبکہ انٹرنیٹ کی سہولت نے دیگر کو اپنی پڑھائی جاری رکھنے میں مدد دی ہے۔

ٹم برنرزلی
ٹم برنرزلی

ان کے خیال میں دنیا بھر کے ہر نوجوان کو انٹرنیٹ تک رسائی دینا فائدہ مند ہوگا۔ برنرز لی کے اندازے کے مطابق اگلے دس سالوں میں ہر ایک شخص کو براڈ بینڈ کنیکشن کی سہولت فراہم کرنے پر تقریباً چار کھرب ڈالر لاگت آئے گی۔

کرونا کی عالمی وبا کے بعد دنیا بھر میں یہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو انٹرنیٹ تک رسائی ملنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ان کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size