.

انٹرنیٹ پر اجارہ داری کی ’بدعت‘ جلد ختم ہو جائے گی: ٹم برنرز لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹرنیٹ کے موجد ٹم برنرز لی نے کرونا کی عالمی وبا کے بعد انٹرنیٹ کی نوجوانوں تک رسائی کو ممکن بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے نوجوانوں کی بڑی تعداد اس وقت انٹرنیٹ سے محروم ہے۔

ورلڈ وائڈ ویب [انٹرنیٹ] ایجاد کی 32ویں سالگرہ کے موقع پر شائع ہونے والے خط میں ٹم برنرز لی نے کہا کہ نوجوانوں کا اثر و رسوخ آن لائن نیٹ ورکس کے علاوہ ان کی کمیونٹی میں بھی محسوس کیا جاتا ہے، لیکن نوجوانوں کی بڑی تعداد کو انٹرنیٹ تک رسائی نہ ہونے کے باعث اپنی قابلیت اور خیالات شیئر کرنے کا موقع نہیں مل رہا۔

انٹرنیٹ کے بانی ٹم برنرز نے کہا کہ نوجوانوں کی ایک تہائی آبادی کو انٹرنیٹ تک بالکل رسائی حاصل نہیں ہے، کئی نوجوان ایسے ہیں جو انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے ڈیوائسز یا مؤثر کنیکشن نہ ہونے کے باعث ویب سائٹس کا بھرپور فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

ٹم برنرز نے کہا کہ 2 ارب 20 کروڑ نوجوانوں کے پاس انٹرنیٹ کا پائیدار کنیکشن ہی موجود نہیں ہے جس کے باعث وہ کرونا کے دوران آن لائن تعلیم نہیں حاصل کر سکے، جبکہ انٹرنیٹ کی سہولت نے دیگر کو اپنی پڑھائی جاری رکھنے میں مدد دی ہے۔

ان کے خیال میں دنیا بھر کے ہر نوجوان کو انٹرنیٹ تک رسائی دینا فائدہ مند ہوگا۔ برنرز لی کے اندازے کے مطابق اگلے دس سالوں میں ہر ایک شخص کو براڈ بینڈ کنیکشن کی سہولت فراہم کرنے پر تقریباً چار کھرب ڈالر لاگت آئے گی۔

کرونا کی عالمی وبا کے بعد دنیا بھر میں یہ شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے کہ نوجوانوں کو انٹرنیٹ تک رسائی ملنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ان کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہ پیدا ہو۔