.

مسلسل 38 سال 20 ہزار گھنٹے جہاز اڑانے والے سعودی پائلٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ایک ماہر ہوا باز نے مسلسل 38 سال تک ہوابازی کے میدان میں 20 ہزار گھنٹے فضا میں پرواز میں گذارے۔

سعودی پائلٹ طارق احمد العقیلی نے جہاز کے عملے کے ساتھ جدہ سے الریاض کے لیے اپنی آخری پرواز کا جشن منایا اور یہ پرواز اس کے جہاز اڑانے کے طویل سلسلے کا اختتام تھا۔

طارق احمد العقیلی سعودی عرب کے شہر القصیم میں پیدا ہوا تھا وہ اپنے والد کے ساتھ دمام چلا گیا وہاں اس نے ہائی اسکول سے گریجویشن تک تعلیم مکمل کی اس کے بعد وہ سعودی ایئر لائنز میں شامل ہو اور کچھ عرصے بعد ہوا بازی کی تعلیم کے حصول کے لیے امریکی ریاست فلوریڈا چلا گیا۔ امریکا سے اس نے خصوصی فلائنگ لائسنس حاصل کیا۔

انھوں نے وطن واپسی پر 12سال فلائٹ اسسٹنٹ کی خدمات انجام دیں۔سنہ 1995 میں کپتان پائلٹ کی حیثیت سے کوالیفائی کیا۔ آخر کار وہ وقت بھی آ گیا جب وہ ترقی کے مراحل طے کرتے ہوئے بوئنگ787 کے پائلٹ بن گئے۔ طارق العقیلی سعودی عرب کے پہلے ہواباز ہیں جنہوں امریکا سے سعودی عرب کے شہر جدہ تک پہلا پرواز اڑائی۔

العقیلی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پائلٹ کے سفر کے دوران جدہ کورنیش پر سعودی شاہینوں کے ساتھ اپنی ایک نمائش میں شرکت باعث فخر ہے۔ مجھے وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب میں جدہ کی فضائوں میں ایک سول طیارہ اڑا رہا تھا اور میرے آس پاس جنگی طیارے محو پرواز تھے۔

ایک سوال کے جواب میں پائلٹ العقیلی نے بتایا کہ میں نے ہوائی جہاز اڑانے کے ساتھ ساتھ متعدد انتظامی ذمہ دا ریاں بھی ادا کیں۔ ان ذمہ داریوں میں 400 جمبو بیڑے اور 787 فضائی بیڑے کے ڈائریکٹر کی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں۔

پائلٹ العقیلی کا کہنا تھا کہ 38 سالہ پرواز کے طویل سفر میں کئی واقعات یادگار ثابت ہوئے۔ اس نے بتایا کہ ایک یاد گار واقعہ وہ تھا جب میری والدہ، بیوی اور بچے ریاض سے دمام جاتے ہوئے میرے طیارے میں سوار تھے۔

العقیلی نے کہا کہ پائلٹ کی ذمہ داریوں کے انجام ہی نے مجھے وقت کی پابندی کی عادت ڈال دی۔

پائلٹ العقیلی نے اپنی گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ ہوا بازی کی ملازمت کے دوران بہت مصروف رہا اور میں اپنے عزیز واقارب کو زیادہ وقت نہیں دے پایا۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اب میرے پاس ورزش، اپنے اہل خانہ کے ساتھ گھومنے پھرنے کا بہت وقت ہے۔ میں اپنی اہلیہ اور بیٹے نواف کے ساتھ وقت گذاروں گا۔ انھوں نے دل سوز لہجے میں بتایا کہ ان کے دو بیٹے احمد اور فہد دو سال قبل امریکا میں ایک ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔