.

آوارہ کتوں سے حملوں سے انسانوں کو کیسے بچایا جا سکتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں گذشتہ جمعہ کے روز الریاض میں پیش آنے والے ایک المناک واقعے کے بعد حکام نے ملک میں آوارہ کتوں کے انسداد کے لیے موثر اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو الریاض میں پانچ آوارہ کتوں نے ایک اڑھائی سالہ بچی کو اس کے اہل خانہ کے سامنے بھنبھوڑ کر جان سے مار ڈالا۔
اس حوالے سے جہاں حکام حرکت میں آگئے ہیں وہیں حیوانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے بھی متحرک ہوگئے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ آوارہ کتوں کے حملوں سے شہریوں کی جانوں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔


مُملکت میں حیوانات کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرکاری ادارے'رحمہ' کے ترجمان حمزہ الغامدی نے العربیہ ڈاٹ‌ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آوارہ کتوں اور اس طرح کے دوسرے جانوروں کے حملوں سے بچنے کے لیے ضروری تدابیر اختیار کی جانی چاہئیں۔ پوری دنیا میں آبادی والے علاقوں میں آوارہ کتوں کو کم سے کم کرنے کا اصول اپنایا جاتا ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر 'TNR' کا اصول اپنایا جاتا ہے۔ یہ تین الفاظ 'Trap , Nuture , Release' کا مخفف ہے۔ اس کا مقصد روکنا، آوارہ کتوں کی نس بندی کرنا اور اس کے بعد انہیں چھوڑنا ہے۔ یہ طریقہ کار کافی فعال ثابت ہوتا ہے۔ نس بندی کے بعد جاندار انسانوں کے لیے زیادہ خطرناک نہیں رہتے۔ وہ طیش میں نہیں آتے اور حملہ نہیں کرتے کیونکہ نس بندی کے ذریعے ان کے جارحانہ ہارمون ختم کردیے جاتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ آبادی والے علاقوں میں آوارہ کتوں کی تعداد کم سے کم کرنا بھی ضروری ہے۔


الغامدی نے مزید کہا کہ آوارہ کتوں کی نس بندی کے لیے معروف طریقہ کار یہ ہے کہ جس کتے کی نس بندی کی جائے اس کے کان پر ایک نشان لگا دیا جانا چاہیے۔ اس سے یہ معلوم کرنا آسان ہوسکتا ہے کہ آیا یہ کتا خطرناک ہوسکتا ہے یا نہیں۔ اگر شہری کوئی ایسا آوارہ کتا دیکھیں جس کے کان پر کوئی نشان موجود نہیں تو اس سے خود بھی بچیں اور اس کے بارے میں متعلقہ حکام کو آگاہ کریں تاکہ اس کی نس بندی کی جا سکے۔
آوارہ کتوں کے قتل عام کے بارے میں بات کرتے ہوئے الغامدی نے کہا کہ کتوں کو نس بندی کے ذریعے خطرہ بننے سے بچایا جا سکتا ہے۔ ایسے کتے جو لوگوں پر حملہ کرتے ہوں تربیت کے ذریعے ان کے رویے میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔
خیال رہے کہ الریاض کے سیکرٹری شہزادہ فیصل بن عبدالعزیز بن عیاف نے اتوار کے روز آوارہ کتوں کے حملے میں بچی کی ہلاکت کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے اس کی رپورٹ طلب کی ہے۔انہوں‌ نے شہر میں پھرنے والے آوارہ کتوں اور بلیوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات دیتے ہوئے شہریوں کو آوارہ جانوروں سے تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔