.

سعودی بنک کووِڈ-19 کی حشرسامانیوں سے نکل آئے،2021ء میں شرح نمومیں اضافہ متوقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں بنک کاری کا شعبہ کووِڈ-19 کی وَبا کی حشرسامانیوں کا مقابلہ کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر ترقی کی جانب گامزن ہوگیا ہے اور رواں سال کے دوران میں اس کی شرح نمو میں اضافہ متوقع ہے۔

بنک کاری کے شعبے میں حسابات کی چار تنظیموں میں سے ایک کے پی ایم جی نے سعودی عرب کے بنکنگ سیکٹر کے بارے میں ایک خوش نما رپورٹ جاری کی ہے۔اس کا عنوان’’بنکنگ پرسپیکٹیوز2021ء‘‘ہے،اس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں معاشی اور مالیاتی اصلاحات کے نتیجے میں بنک کاری کا شعبہ مثبت انداز میں ترقی کررہا ہے،اس کے کریڈٹ میں نقصانات کا سلسلہ رُک چکا ہے اور لیکویڈیٹی میں استحکام آیا ہے۔

کے پی ایم جی نے اپنی اس رپورٹ میں کہا ہے کہ سعودی اسٹاک مارکیٹ تداول میں رجسٹر گیارہ بنک سال کے اختتام پر درپیش چیلنجز کے مقابلے میں مضبوط رہے ہیں۔انھوں نے مارچ 2020ء میں کرونا وائرس کی وَبا پھیلنے کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال میں بحالی کے اشارے دیے تھے اور 2021ء میں ان کی ایک خوش نما تصویر سامنے آئی ہے۔

ان گیارہ بنکوں کے نام یہ ہیں:علینما بنک ، عرب نیشنل بنک ، الراجحی بنک ، بنک الجزیرہ ، بنک البلاد ، بنک سعودی فرانسی ، نیشنل کمرشل بنک ،الریاض بنک ، سعودی برٹش بنک ،سعودی انویسٹمنٹ بنک اور سامبا فنانشیل گروپ۔

اس تجزیے میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سعودی بنک ریگولیٹرادارے کے ساتھ مل کر اقتصادی بحالی کے عمل میں مشترکہ کردار ادا کررہے ہیں۔گذشتہ ایک سال کے دوران میں سعودی سنٹرل بنک (ساما) نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے اور اس نے بنکوں کے ڈیجیٹل سفر میں بھرپور مدد کی ہے تاکہ صارفین کو مالیاتی اداروں کے عملہ سے بالمشافہ یا جسمانی رابطے کے بغیر ہی بنک کاری کی ڈیجیٹل طریقے سے خدمات مہیا کی جاسکیں۔

سعودی عرب میں 'کے پی ایم جی' کے چیئرمین عبداللہ حمد الفوزان مذکورہ رپورٹ کے دیباچے میں لکھتے ہیں: ’’سعودی عرب میں حکومت نے کروناوائرس کی وَبا کے معاشی اثرات کو کم سے کم کرنےکے لیے افراد اور مقامی کاروباروں کی معاونت کی غرض سے فوری طور پر امدادی پروگرام شروع کیے تھے۔ان پروگراموں کے تحت ساما نے اہم کردار ادا کیا ہے،اس نے رقوم کی تاخیر سے ادائی کے پروگرام کے مقابلے میں لیکویڈیٹی (نقدرقوم) کی شکل میں امداد دی ہے،ضمانتیں دی ہیں اور وبا کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بعض دوسرے اقدامات کیے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’بنکوں نے حکومت اور ساما کے مالیاتی امدادی میکانزم میں سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ کاروباری انتظام کے نظاموں کے ذریعے درپیش چیلنجز اورمسائل سے نمٹا ہے۔‘‘

رپورٹ میں 2020ء میں ان گیارہ بنکوں کی مالیاتی کارکردگی کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ان کی خالص آمدن میں 6۰32 فی صد کمی واقع ہوئی تھی۔البتہ سعودی برٹش بنک (ساب) کی کارکردگی بہتر رہی تھی۔گذشتہ سال میں ان بنکوں کے کل اثاثوں میں 13۰14 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ان کی مالیت 2771 ارب سعودی ریال بنتی ہے جبکہ 2019ء میں ان کی مالیت 2449 ارب ریال تھی۔

صارفین کی جانب سے بنکوں میں جمع کرائی جانے والی رقوم میں گذشتہ سال کے مقابلے میں 9۰18 فی صد اضافہ ہوا ہے۔2020ء میں کل 1975 سعودی ریال جمع کرائے گئے تھے جبکہ 2019ء میں اس مد میں رقم کا حجم 1809 ارب ریال تھا۔تاہم متوقع کریڈٹ نقصان (ای سی ایل)میں 39۰05 فی صد اضافہ ہوا ہے۔اس کی مالیت 17۰33 ارب سعودی ریال تھی جبکہ 2019ء میں کریڈٹ نقصان کی مالیت 12۰46 ارب ریال رہی تھی۔