.

سعودی عرب: الباحہ کے روایتی 'جُبہ' کو بقا کے چیلنج کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے 'الباحہ' میں روایتی ملبوسات میں ایک لباس 'جبہ' کہلاتا ہے۔ جبہ وہاں کی ایک مقامی ثقافتی علامت ہے جو صدیوں سے بنایا جاتا اور استعمال ہوتا رہا ہے مگر اب یہ لباس متروک ہونے لگا ہے۔

جبہ کا لباس الباحہ کی خواتین تیار کرتی ہیں۔ اس کی تیاری میں بھیڑ کی سفید اون استعمال کی جاتی ہے۔ پہلے عورتیں اسےہاتھ سے کات کر اس اون کا دھاگہ بناتی ہیں۔ اس کے بعد اسے روایتی کھڈی پر تیار کیا جاتا ہے۔ اس پر مختلف اقسام کی کڑھائی بھی کی جاتی ہے۔

الباحہ کی تاریخ پر نظر رکھنے والے سعودی دانشور محمد الغامدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'الباحہ' میں 'جبہ' کے چار نام مشہور ہیں۔ زیادہ تر اسے جبہ ہی کہا جاتا ہے مگر اس کے علاوہ 'البجاد' البیدی اور الکسی بھی اس کے نام ہیں۔ سب زیادہ سفید رنگ کا جبہ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد سرخ رنگ کے جبے کو'المحمرہ' کہا جاتا ہے جوسرخ اون سے تیار کیا جاتا ہے۔ سرخ رنگ کی اون کم یاب ہونے کی وجہ سے محمرہ کم بنتا ہے۔ جبہ صرف مرد ہی استعمال نہیں کرتے بلکہ عورتیں‌بھی استعمال کرتی ہیں۔ عورتوں کے لیے تیار کردہ 'جبہ' کو مدارہ بھی کہا جاتا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں محمد الغامدی نے کہا کہ جبکہ ایک بڑی گرم چادر ہوتی ہے جو پورے جسم کو ڈھانپ لیتی ہے۔ اس کے کناروں کو خوبصورت انداز میں کڑھائی کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے۔ اس کی آستینوں کو سنہرے اور سرخ رنگ کے ذریعے بنایا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ الباحہ کا روایتی 'جبہ' اب بقا کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اسے لوگ زیادہ تر شادی بیاہ کے موقعے پر ہی اوڑھتے ہیں اور مقامی سطح پر اس کی تیاری پہلے کی طرح پرجوش انداز میں نہیں کی جاتی۔