.

پودینہ ، لہسن اور شہد وغیرہ ، گھریلو علاج جن سے بے نیاز نہیں ہو سکتے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گھریلو علاج کے بعض طریقے بعض سادہ سی بیماریوں کا بہترین حل ثابت ہو سکتے ہیں۔ مثلا معمولی طور پر جلنا، خشکی، سر کا درد، معدے کا درد اور گرمی دانے وغیرہ۔

صحت کے امور سے متعلق انگریزی ویب سائٹ BOLDSKY نے اس حوالے سے درجِ ذیل 10 قدرتی اشیاء کے متعلق رپورٹ شائع کی ہے :
1 ۔ ہلدی

ہلدی میں موجود کرکمین کا عنصر اپنی اینٹی انفلیمٹری اور اینٹی آکسائیڈز خصوصیات کے سبب معروف ہے۔ علاوہ ازیں ہلدی میں اینٹی بیکٹریا مواد بھی پایا جاتا ہے جو جسم کے مدافعتی نظام کو ئی طریقوں سے مدد دے سکتا ہے۔ ہلدی کو زخموں کے علاج اور ہاضمے ، نزلے، کھانسی، دانوں اور جلد کے مسائل کے واسطے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔


2 ۔ ادرک

ادرک سوزش کو روکنے کے حوالے سے اپنی خصوصیات کے سبب مشہور ہے۔ یہ جسم سے بلغم کو نکالتا ہے اور پھیپھڑوں میں دورانِ خون کو بہتر بناتا ہے۔ اسے متلی اور قے کو کم کرنے اور ماہواری کی تکلیف کے علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔


3 ۔ شہد

گزرے زمانے سے شہد کا بطور غذا اور دوا استعمال ہو رہا ہے۔ انسانی صحت کے لیے یہ کئی فوائد کا حامل ہے۔ اس میں جراثیم کش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ تحقیقی مطالعوں کے مطابق پھلوں اور دیگر غذاؤں کے ساتھ ملا کر استعمال کرنے سے شہد کی خصوصیات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ گھریلو علاج کے طور پر شہد کو حلق کی سوزش، نزلہ زکام، معدے کی جلن، دانتوں کے درد اور پٹھوں میں سوزش کے واسطے استعمال کیا جانا معروف ہے۔
4 ۔ پودینہ

پودینے کے پتوں میں حراروں کی کم تعداد ہوتی ہے۔ ریشے کی بڑی مقدار پر مشتمل ہونے کے پیش نظر یہ ہاضمہ خراب ہونے سے روکتا ہے، خون میں کولسٹرول کی سطح کم کرتا ہے اور وزن بڑھنے یا موٹاپے کے خطرات پر روک لگاتا ہے۔ پودینے کو وسیع پیمانے پر مٹھائی، مشروبات، ٹوتھ پیسٹ اور ماؤتھ واش میں بطور خوشبو استعمال کیا جاتا ہے۔ پودینہ نظام تنفس کے نظام کے بعض مسائل ، ڈپریشن اور تھکن کے احساس کے علاج کے علاوہ منہ کی بدبو کو بھی دُور کرتا ہے۔
5 ۔ لہسن

لہسن میں اینٹی وائرس اور اینٹی بکٹیریا خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ یہ جسم کے اندر سفید خلیوں کی تیاری کا عمل تیز کرتا ہے۔ لہسن کا باقاعدگی سے استعمال تناؤ اور تشویش کم کرتا ہے۔ یہ نزلہ زکام، کھانسی، دانتوں کے درد کے واسطے گھریلو علاج کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
6 ۔ دارچینی

دارچینی میں کومیرین پایا جاتا ہے۔ یہ مرکب انسانی کھوپڑی میں خون جمنے سے بچاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ سوزشن کو کم کرنے میں مدد سے سکتا ہے۔ اعتدال کے ساتھ دارچینی کا استعمال نوجوانی کے دانوں، کیلوں اور مہاسوں کا علاج بھی کر سکتا ہے۔ دارچینی کو کھانسی، سر درد اور حلق کی سوزش کی صورت میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

7 ۔ لال مرچ

لال مرچ میں کیپسیسن کا مادہ پایا جاتا ہے جو حلق کے درد کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی طرح یہ سوزش کم کرنے اور حلق کی سوزش ختم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ لال مرچ کو پٹھوں کے درد یا جسم میں اور دوسرے عام درد کے علاج کے واسطے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
8 ۔ میتھی

میتھی کا شمار سر کی خشکی اور جسمانی گرمی سے چھٹکارہ پانے کے لیے استعمال ہونے والے گھریلو علاج کے طور پر ہوتا ہے۔ اس کی بہت سی طبی خصوصیات ہیں۔ تحقیقی مطالعوں کے مطابق میتھی قدرتی رضاعت کے واسطے دودھ پیدا کرنے میں مدد گار ہو سکتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ اسہال اور امساک کا علاج بھی ہے۔ میتھی کو کھانے یا پینے کے ذریعے استعمال کیا جاتا ہے۔ سر کی خشکی کے واسطے میتھی دانوں کا ایک بڑا چمچہ لے کر اسے پوری رات کے لیے ایک کپ پانی میں بھگو دینا چاہیے۔ اس کے بعد دانوں کا گودا بنا کر پیسٹ تیار کر لیں اور پھر اسے سر پر ایک گھنٹے کے لیے لگا کر چھوڑ دیں۔


9 ۔ برف سے ٹکور

آئس بیگ کے ذریعے علاج (برف کی ٹکور) کے متعدد مقاصد ہوتے ہیں۔ خواہ یہ سر درد کے لیے ہو یا پھر گھٹنے یا کمر کے درد کے لیے ہو۔ یہ فوری طور پر آرام پہنچاتا ہے۔ گھٹنے یا پٹھوں کے درد کو کم کرنے کے لیے ہر دو سے چار گھنٹوں میں 15 س 20 منٹوں کے لیے برف رکھی جانی چاہیے۔


10 ۔ گرم سِکائی

گرم پٹیوں کے ذریعے سکائی پٹھوں ، جوڑوں اور کان کے درد کے لیے بہترین اور سب سے مؤثر علاج شمار کی جاتی ہے۔ اسے خواتین میں ماہواری کے دوران پٹھوں کی اکڑن کم کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔