.

العربیہ سے بالمشافہہ گفتگو:داعش کے سابق ارکان کی ان کہی ہوشربا داستانیں

کیا شام میں ایرانی ملیشیائیں داعش کےارکان کو اسلحہ اور دوسرا سامان مہیا کررہی ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نے شام اورعراق میں واقع حراستی کیمپوں میں سخت گیرجنگجوگروپ داعش کے سابق ارکان اور ان کے خاندانوں سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان سے انٹرویوز ریکارڈ کیے ہیں۔انھوں نے بعض ہوشربا انکشافات کیے ہیں اور بتایا ہے کہ شام کے ایک علاقے میں تو ایران کی حمایت یافتہ ملیشیائیں داعش کے ارکان کو اسلحہ اور دوسرا سامان مہیّا کررہی ہیں۔

العربیہ کی نمایندہ رولا الخطیب نے داعش اور شامی سکیورٹی فورسز کے سابق ارکان سے بالمشافہہ انٹرویوز کیے ہیں اور کیمپوں کی صورت حال کے بارے میں گیارہ حصوں پر مشتمل رپورٹ تیار کی ہے۔

شام کے شمال میں واقع الہول کیمپ میں زیرحراست داعش کے بعض سابق ارکان نے العربیہ سے گفتگو کے دوران میں اپنے چہرے چھپالیے تھے اوراپنی شناخت چھپانے کی درخواست کی تھی۔وہ دنیا کے سامنے اپنی پہچان نہیں چاہتے تھے لیکن بعض دوسرے ارکان نے اپنی شناخت نہیں چھپائی کیونکہ ان کے بہ قول وہ ایک ایسا پلیٹ فام چاہتے ہیں جہاں وہ اپنے ساتھ پیش آنے والے تجربات بیان کرسکیں اوراپنی کارستانیوں پرپچھتاوے کا بھی اظہار کرسکیں۔

رولا الخطیب اور ان کی ٹیم داعش کی خیمہ بستیوں والے خطرناک علاقوں میں جانے سے گھبرائی نہیں اورانھوں نے اپنی جانوں کوخطرے میں ڈال دیا تھا۔داعش کے ایک کیمپ میں توبچّوں نےالعربیہ کی ٹیم کا پیچھا کیا،اس پر سنگ باری کی اورخاتون رپورٹر کوکافرہ تک کہہ دیا۔

داعشی بچوں کو ویڈیو میں کافر کافر پکارتے ہوئے سنا جاسکتا ہے لیکن رولا نے جب ان سے پوچھا:’’ آپ مجھے کافرہ کیوں کہہ رہے ہو؟‘‘

تو ان کا جواب پتا ہے کیا تھا:’’کیونکہ تم نے حجاب نہیں اوڑھ رکھا ہے۔‘‘

اس دستاویزی پروگرام کی ایک قسط کے دوران میں العربیہ کی ٹیم نے اپناانسانی فریضہ بھی پوراکیا ہے۔وہ یوں کہ جرمنی میں مقیم شامی دادا اور دادی کو الہول کیمپ میں بند ان کے پوتوں سے ملوادیا ہے۔ وہ شام میں جنگ کے عروج کے دنوں میں بچھڑگئے تھے۔دادا دادی تو ہجرت کرکے جرمنی چلے گئے لیکن ان کے بیٹے اور پوتے پوتیاں حراستی مرکز میں پہنچ گئے۔واضح رہے کہ الہول کیمپ امریکا کی اتحادی شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کے زیر انتظام ہے۔


الخطیب داعش کے سابق جنگجوؤں اور شامی سکیورٹی فورسز کے سابق ارکان سے گفتگو کے علاوہ شام میں ان علاقوں میں بھی گئی ہیں جہاں انھیں ایرانی ملیشیاؤں کی کارستانیوں کے بارے میں پہلی مرتبہ بعض اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں۔

شام میں بعض ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر العربیہ کو بتایا کہ ایرانی ملیشیائیں علاقے میں داعش کی حمایت کررہی ہیں اور اس تنظیم کے بچے کھچے جنگجوؤں کو اسلحہ اور دوسرا سامان مہیا کررہی ہیں۔

ان ذرائع کے مطابق داعش کے ارکان نے بھی علاقے میں ایرانی ملیشیاؤں سے مراسم اورمیل ملاقاتوں کا اعتراف کیا ہے۔

واضح رہے کہ العربیہ نے ماضی میں ’’بالمشافہہ‘‘ (فیس ٹو فیس) کی سلسلہ وار اقساط میں داعش کے سابق بچّہ فوجیوں اورسابق جنگجومردوخواتین کے انٹرویوز شامل کیے تھے۔ان مردوخواتین کو شام کے مشرقی قصبے الباغوز میں داعش کے ہتھیار پھینکنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا اورپھر الہول کے حراستی مرکز میں منتقل کردیا گیا تھا۔