.

نہر سویز کی کھدائی میں 'سعودی محنت کشوں' کی شمولیت کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حال ہی میں دنیا کی بڑی آبی گذرگاہ نہر سویز میں بحری جہازوں کے پھنس جانے کے بعد ایک بار پھر نہر سویز کو عالمی ایشو کے طور پر پیش کیا ہے۔ نہر سویز کے حوالے سے عالمی ذرائع ابلاغ میں خبریں‌آ رہی ہیں۔ نہر سویز آج سے 150 سال قبل دو سمندروں بحیرہ احمر اور بحیرہ روم کے پانی کو ملانے کے لیے کھودی گئی۔ اس عظیم الشان کینال کی کھدائی میں نہ صرف مصری شہریوں نے حصہ لیا بلکہ کئی دوسرے ممالک جن میں سعودی عرب کے باشندے بھی شامل ہیں نے کھدائی میں حصہ لیا ہے۔
تاریخی کتب اور مستشرقین کی تحقیق سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ نہر سویز کی کھدائی میں سعودی محنت کشوں کا خون بھی شامل ہے۔ تاریخی مصادر سے پتا چلتا ہے کہ سعودی عرب کے القصیم سے تعلق رکھنے والے کئی خاندانوں کے بزرگوں نے کھدائی میں حصہ لیا۔ سعودی شہری نہ صرف کھدائی میں باقاعدہ حصہ لیتے تھے بلکہ وہ مزدروں کو پانی بھی پلاتے تھے۔ سعودی شہری اونٹوں کے ذریعے نہر سویز میں مزدوروں تک پانی پہنچاتے اور یہ سلسلہ 10 سال تک جاری رہا۔
سعودی عرب کے اخبار'الاقتصادیہ' میں شائع کی گئی ایک رپورٹ میں نہر سویز کی کھدائی میں سعودی شہریوں کی شمولیت کی تفصیلات بیان کی گئی ہیں۔
یہ تفصیلات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں حال ہی میں نہرسویز میں ایک مال بردار جہاز پھنس گیا اور ایک ہفتے تک نہر سویز میں جہاز رانی کا سلسلہ معطل رہا ہے۔


ایک انگریز مصنف 'چارلز ڈوٹی'کی کتاب 'جزیرۃ العرب کے صحرا کا سفر' میں نہر سویز کی کھدائی میں سعودی شہریوں کے حصہ لینے کا احوال بیان کیا ہے۔ انہوں‌نے لکھا ہے کہ سعودی شہری 1896ء میں نہر سویز کے عمل میں شریک ہوئے۔ انگریز مصنف نے اپنی کتاب میں مدائن صالح، العلا، تیما، حائل ،بریدہ، خیبر، طائف کے سفری حالات قلم بند کیے اور دیہی زندگی پر بھی روشنی ڈالی ہے۔
اس دوران مصنف کی ملاقا ابراہیم نامی ایک نوجوان سے ہوئی۔ اس کا تعلق مشرقی نجد سے تھا۔ ابراہیم نہر سویز کی کھدائی میں شامل رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ نہر سویز کی کھدائی میں فرانسیسی ، اطالوی اور یونانی لوگوں نے بھی حصہ لیا تھا۔
نہر سویز کی کھدائی کا عمل انتہائی کٹھن اور دشوار تھا۔ مسٹر ڈوٹی نے ابراہیم کےحوالے سے لکھا ہے کہ نہر سویز سے کچھ پارسل الگ الگ پتوں پر بھیجے جاتے۔ ایک افرنگی خاتون کو کام کرتے دیکھا جو سپر وائزر کا کام کرتی۔ اس کام میں حصہ لینے والے زیادہ تر محتاج مسلمان اور عیسائی لوگ ہوتے تھے۔


کتاب کے مترجم نے اس کے حاشیے میں لکھا ہے کہ نہر سویز کی کھدائی میں صرف مصری باشندوں نےحصہ نہیں لیا بلکہ اس میں جزیرۃ العرب اور بحیرہ روم کی دوسری اقوام کے لوگ بھی پیش پیش رہے ہیں۔