.

رنگا رنگ ایونٹ "نور الریاض" اختتام پذیر ، 3 لاکھ افراد کی شرکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے دارالحکومت میں 18 مارچ سے جاری "نور الریاض" ایونٹ گذشتہ روز 3 اپریل کو اختتام پذیر ہو گیا۔ ایونٹ میں 'لائٹنگ آرٹ' یعنی روشنی کے فن کے شعبے سے تعلق رکھنے والے 60 کے قریب فن کاروں نے حصّہ لیا۔ ان فن کاروں کا تعلق دنیا بھر کے 20 سے زیادہ ممالک سے تھا۔ معاشرے کے تمام طبقوں کے لیے منعقد ہونے والے اس ایونٹ میں 3 لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔

اس سلسلے میں ریاض شہر کے لیے شاہی اتھارٹی کے مشیر انس النجمی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "نور الریاض" ایونٹ میں 200 کے قریب سعودی نوجوان مرد اور اور خواتین رضا کاروں نے کام کیا۔ یہ لوگ ایونٹ کے اہم ترین ارکان میں سے تھے۔ اس بڑے پیمانے کے ایونٹ کی کامیابی یقینا قابل ستائش ہے۔ ایونٹ کو 3 لاکھ سے زیادہ افراد دیکھنے آئے۔ ایونٹ میں سعودی شہریوں کے تیار کردہ اعلی معیار کے فن پارے موجود تھے۔ اس موقع پر سعودی فن کاروں کو عالمی سطح کے تجربات سے متعارف ہونے کا موقع بھی ملا۔

دوسری جانب سعودی دارالحکومت کو خوب صورت بنانے کے لیے اعلان کردہ منصوبے "ریاض آرٹ" کے ڈائریکٹر انجینئر خالد الہزانی نے باور کرایا ہے کہ "نور الریاض ایونٹ نے مقامی اور عالمی معاشروں کو اکٹھا کر دیا تا کہ جدت اور تخلیق کو پھیلایا جا سکے"۔

ریاض شہر کے لیے شاہی اتھارٹی کے مشیر انجینئر حسام القرشی کے مطابق یہ ایونٹ معاشرے کو ریاض شہر میں فنی اور ثقافتی پہلوؤں سے روشناس کرانے کا ایک شان دار موقع تھا۔ مملکت کے اندرون اور بیرون سے آئے ہوئے لوگوں کا بہت مثبت رد عمل سامنے آیا۔

واضح رہے کہ "نور الرياض" سعودی دارالحکومت کو خوب صورت بنانے کے حوالے سے اعلان کردہ پروگرام "ریاض آرٹ" کے سلسلے کا پہلا ایونٹ ہے۔ ریاض آرٹ کا انعقاد ہر سال ہوتا ہے۔ اس کا مقصد ریاض شہر کے مختلف حصوں میں لائٹنگ اور آرٹ سے متعلق نئے اور جدت کے حامل فن پاروں کو اجاگر کرنا ہے۔

ریاض آرٹ مملکت کے نہایت اہم پروگرام "ویژن 2030ء" کے ساتھ مربوط ہے۔ یہ ان چار بڑے منصوبوں میں شامل ہے جن کو ریاض شہر کی شاہی اتھارٹی نے ڈیزائن کیا۔ ان منصوبوں کا مقصد سعودی دارالحکومت کو اہمیت اور سرگرمیوں کے لحاظ سے برتری رکھنے والے ایک عالمی شہر میں تبدیل کرنا ہے۔