.

کووِڈ-19 کازیادہ عرصہ مریض رہنے والے افراد رمضان میں روزے نہ رکھیں:اماراتی ڈاکٹر 

روزے سے صحت مند افراد کی کرونا وائرس سے مقابلے کے لیے قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں نظام تنفس کے امراض کے ماہر ایک ڈاکٹر نے کووِڈ-19 کی علامات کا زیادہ عرصہ شکار رینے والے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس مرتبہ ماہ رمضان میں روزہ نہ رکھیں۔

ڈاکٹر محمد حارث کا کہنا ہے کہ ’’جنوری کے بعد سے متحدہ عرب امارات میں کروناوائرس کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں ایک مرتبہ پھراضافہ ہوا ہے۔اس کا یہ مطلب ہے کہ اب زیادہ لوگ کووِڈ-19 کے مرض کی پیچیدگیوں کا شکارہورہے ہیں۔‘‘

انھوں نے العربیہ سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ’’جو لوگ کووِڈ-19 کا شکار ہوکر شدید بیماررہے ہیں،انھیں اسپتال داخل کرنا پڑا ہے یااس وقت نقاہت کا شکار ہیں تو انھیں روزہ رکھتے وقت زیادہ محتاط ہونا چاہیے لیکن ان بیمار افراد کے مقابلے میں اگر صحت مند افراد روزہ رکھتے ہیں تو اس سے ان کی کرونا وائرس سے مقابلے کے لیے قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوگا۔‘‘

شارجہ سے تعلق رکھنے والے سانس ،ناک اور گلہ کے ماہرامراض نے بتایا کہ اس مرتبہ رمضان میں کووِڈ-19 کے یومیہ کیسوں کی تعداد میں گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ اضافے کا امکان نہیں کیونکہ 2020ءمیں تو دنیا بھر میں اس مہلک وائرس کا شکار ہونے والے افراد کی تعداد میں اضافے کا رجحان تھا اور اس کے مریض بڑھ رہے تھے۔

البتہ انھوں نے شہریوں کو تلقین کی ہے کہ وہ اجتماعی افطار یاعوامی اجتماعات میں جانے سے گریز کریں اور اس ضمن میں حکومت کی عاید کردہ پابندیوں کی پاسداری کریں۔سحر اور افطار کے وقت اپنی خوراک کا خاص خیال رکھیں اور صرف قوت بخش کھانے کھائیں۔

ڈاکٹر حارث کا کہنا تھا کہ ’’گذشتہ سال کے برعکس اس مرتبہ بعد ازکووِڈ ہمارے پاس ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہے جو قوتِ مدافعت کے اعتبار سے کمزور ہیں۔ان کے پھیپھڑے کم زور ہیں یا ان کے جسم کے دوسرے حصوں میں پیچیدگیاں پائی جارہی ہیں۔اس لیے میرے خیال میں ایسے لوگوں کے لیے بہتر یہ ہوگا کہ وہ روزے نہیں رکھیں کیونکہ وہ پانی کی کمی اور نقاہت کا شکار ہوسکتے ہیں۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ صحت مند افراد کے لیے روزہ سود مند ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ بعض مطالعات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ روزے سے قوتِ مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔اس کی شرط یہ ہے کہ روزہ دار پھل ، سبزیاں اور وٹامن ڈی کی حامل خوراک اکا زیادہ ستعمال کریں تو اس سے انھیں فائدہ ہوگا۔

ڈاکٹرحارث نے یو اے ای میں کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ویکسین لگانے کی مہم کے پیش نظر یہ پیشین گوئی کی ہےکہ 2022ء کا رمضان اس مرتبہ سے بالکل مختلف ہوگا اور فطری رجحان کے مطابق آیندہ سال تک کروناوائرس کے کیسوں کا خاتمہ ہوچکا ہوگا اورہم ایک مختلف رمضان گزاریں گے۔