.

حوثی باغی تدریسی کتب کو یمنی بچّوں میں منافرت پھیلانے کے لیےاستعمال کررہے ہیں:رپورٹ 

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغی تعلیمی نظام کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے اسعتمال کررہے ہیں۔وہ بچّوں میں منافرت پھیلانے کے لیے تدریسی کتب کو استعمال کررہے ہیں اوراس مقصد کے لیے انھوں نے اسکول کی کتب میں منافرت آمیز اور گم راہ کن کم مواد شامل کیا ہے۔

اس بات کا انکشاف اسکول ایجوکیشن میں امن اور ثقافتی رواداری کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارے (امپیکٹ اسکول ایجوکیشن) نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کیا ہے۔مشرقِ اوسط میں تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کرنے والی اس تنظیم نے یمن میں حوثیوں کے زیرانتظام سمرکیمپوں اور ہم نصابی سرگرمیوں کے لیے تیارکردہ تدریسی مواد کا جائزہ لیا ہے۔اس کے علاوہ ’’جہاد‘‘ کے نام سے ایک ماہانہ تعلیمی میگزین کے مندرجات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

اس میگزین میں مہلوک بچّوں کی تصاویر شامل کی گئی ہیں تاکہ اس طرح دوسرے بچوں کے ذہنوں میں حوثیوں کے مخالفین کے بارے میں نفرت راسخ کی جاسکے۔

حوثیوں کے زیرانتظام اسکولوں کے تعلیمی مواد میں امریکا کو ایک عالمی برائی کے طور پر پیش کیا گیا ہے اور اس کو ایران کی اصطلاح میں ’’بزرگ شیطان‘‘ قرار دیا گیا ہے جو داعش سمیت دنیا میں ہونے والی تمام برائیوں کا ذمے داراور اصل منبع ہے۔اس کے علاوہ بچوں کو ’’مرگ بر امریکا‘‘ کا نعرہ بھی سکھایا جاتا ہے۔

اس رپورٹ کے محققین کا کہنا ہے کہ حوثیوں کی تیارکردہ تدریسی کتب میں یہودمخالف مواد بھی بہ کثرت موجود ہے۔اسباق میں ہولوکاسٹ ،زرد ستارہ داؤد اورکانٹے دار تار کی تصاویر شامل کی گئی ہیں اور یہ بتایا گیا ہے کہ کیسے صہیونی امریکیوں کی بالادستی کی مخالفت کی جاسکتی ہے۔اسرائیل کو ایک ’’سرطانی پھوڑا‘‘ قرار دیا گیا ہے۔

ایک کتاب میں شامل کارٹون میں ایک نوجوان لڑکے اور اس کے دوستوں کو دشمن کے جہاز پر حملہ آور ہوتے دکھایا گیا ہے لیکن اس جہاز پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے پرچم لہرا رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے ایک محقق کا کہنا ہے کہ تدریسی کتب میں تشدد کو تقدیس کا چولا پہنایا گیا ہے،اس کو مقدس بنا کر پیش کیا گیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ صرف تشدد ہی سے تنازعات کو حل کیا جاسکتا ہے۔ ان کا کہناہے کہ’’بچوں کو اپنی جانیں تک قربان کرنے کی تعلیم وترغیب دینا یونیسکو کے امن اور رواداری کے معیارات کے منافی ہے اور یہ کسی بھی معاشرے کے لیے ناقابل قبول ہے۔‘‘

اس تحقیقی رپورٹ میں ایران کی گماشتہ تنظیم کے زیر قبضہ علاقوں میں تعلیمی صورت حال کی عکاسی کی گئی ہے۔اس سے ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے حربوں اور دنیا کے بارے میں نقطہ نظر کی بھی عکاسی ہوتی ہے کیونکہ وہ عرب دنیا میں اپنی صارف تنظیموں کے لیے لوگوں کوبھرتی کرتی اور ان سے ان کی سرگرمیوں کے ضمن میں رابطے میں ہوتی ہے۔

اس محقق کے بہ قول حوثیوں کے تدریسی موادمیں ایران کی کچھ اور ہی تصویرکشی کی گئی ہے اور اس کو حوثی ملیشیا کے ایک ایسے اتحادی کے طور پر پیش کیا گیا جس کو مغرب مسلسل زیادتیوں کا ہدف بنا رہا ہے۔

امپیکٹ اسکول ایجوکیشن کے جائزے میں کہا گیا ہے کہ 2015ء سے قبل، جب ابھی حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ نہیں کیا تھا،یمن میں عرب بہار میں ہونے والی پیش رفت کے ضمن میں ایک مایوس کن صورت حال تھی۔وہ قدرے مستحکم تھا اور علاقائی ماہرین یہ توقع کررہے تھے کہ وہ ایک وفاقی ماڈل اختیار کرلے گا۔

لیکن یہ سب چیزیں اس وقت تبدیل ہوتی چلی گئیں جب ایران نے یمن میں مداخلت کی اور اپنی اتحادی ملیشیا کی پشتیبانی شروع کردی۔ایران اپنے نظریے کے مطابق خطے بھر میں ملیشیاؤں کو تیار کررہا ہے۔اس مقصد کے لیے تعلیم اس کا ایک اہم ہتھیار بن چکی ہے۔