.

نوبل انعام یافتہ سوویت فلاسفر جس پراپنی ہی زمین تنگ کردی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سنہ 1970 میں روسی مصنف ، فلسفی اور مؤرخ الیگزینڈر سولزینتسن نے جوزف اسٹالن کے دور حکومت میں سوویت جبری مشقت کے مراکز ، جسے 'گولاگ' کے نام سے جانا جاتا تھا کی ہولناکی کو بیان کرنے والے ادب کی تخلیق پر نوبل انعام خراج تحسین کے طور پر جیتا تھا مگر اسٹالن کے مظالم کو بیان کرنے پر ملک کے اس نامور فلاسفر پر عرصہ حیات تنگ کردیا گیا۔ اس کی سوویت شہریت منسوخ کردی گئی اور آخر کار ملک بدر کردیا گیا۔

الیکذینڈر سولزینتسن نے ایک ناول "جزیرہ نما گولاگ " اور ایک کتاب"ایوین ڈینیسووچ کی زندگی میں ایک دن" لکھی جس پر سوویت حکام سے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ جوف اسٹالن کے جبری مشقت کے کیمپوں پر قلم آرائی کرنے والے اس فلسفی اور ادیب کو غدار اور قصوروار مجرم قرار دینے میں کوئی تردد نہیں برتا گیا اور اس 'حق گوئی' کی پاداش میں اسے ملک سے بے دخل کردیا گیا اور کئی دہائیوں تک اس نے جلاوطنی میں زندگی گذاری۔

سولزینتسن 11 دسمبر 1918 کو سوویت سوشلسٹ فیڈریٹشن میں روس کے علاقے (Kislovodsk) میں پیدا ہوئے۔ سولزینتسن کے والد پہلی جنگ عظیم کے اختتام اور سوویت یونین میں خانہ جنگی چھڑنے کے عرصے میں انتقال کرگئے اور مستقبل کے اس نامور مصنف کی پرورش اس کی ماں اور خالہ نے کی۔ سوویت یونین میں اس دور میں خانہ جنگی نے پورے ملک میں قحط پیدا کردیا اور لاکھوں لوگ بیماریوں اور خوراک کی قلت کے باعث لقمہ اجل بن گئے۔

سولزینتسن نے روسٹو یونیورسٹی میں کھیلوں کی تعلیم حاصل کی۔ ان کی تعلیم یافتہ والدہ نے ان کی حوصلہ افزائی کی جس نے ان کے سائنسی اور ادبی عزائم کی مدد کی۔سولزینتسن نے اپنی تحریروں میں اپنی والدہ کے کردار کی تعریف کی اور انہیں ایک ادیب اور فلسفی بنانے میں اپنی ماں کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ان کی ماں سنہ1944 میں انتقال کر گئیں۔ انہوں نے لکھا کہ کس طرح مشکل حالات میں ان کی ماں نے ان کی مدد کی۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران سولزینتسن نے 22 جون 1941 کو جرمنی کے حملے کے آغاز کے بعد اپنے وطن کے دفاع کے لیے سوویت ریڈ آرمی میں شمولیت اختیار کی۔ لڑائیوں کے دوران محاذوں پر کھڑے ہونے کے باوجود اس روسی مصنف کو 1945 میں سوویت خفیہ پولیس 'این کے وی ڈی' نے گرفتار کرلیا۔ اس کی وجہ ان کے نجی خطوط کے مندرجات کی وجہ سے اسٹالن پر تنقید اور جنگ کے وقت ملک میں بدانتظامی کا الزام بتایا گیا۔

سوویت قوانین کی بنیاد پر سولزینتسن پر حب الوطنی کے خلاف پروپیگنڈا پھیلانے اور حکومت کے خلاف اشتعال انگیزی کا الزام لگایا گیا تھا۔ گرفتاری کے بعد انہیں ماسکو میں ہی لوبیانکا' ہیڈکوارٹر پہنچایا گیا جہاں بعد انہیں آٹھ سال قید کی سزا سنانے سے پہلے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ قید کی سزا سنائے جانے کے بعد انہیں قازقستان میں قائم جبری مشقت کے ایک کیمپ میں ڈال دیا گیا۔

اسٹالن کے چلے جانے اور نیکیتا خروچوف کے اقتدار میں آنے کے بعد سوویت یونین نے پرانی اسٹالنسٹ پالیسیوں کو توڑنا شروع کیا جس کے نتیجے میں سولزینتسن کو اس بدنام زمانہ جبری مشقت کے کیمپ سے خلاصی ملی۔

سنہ 1962 میں سولزنیتسن نے "A Day in the Life of Ivan Denisovich" نامی ایک کتاب شائع کی ، جس کے ذریعہ اس نے اسٹالن کے دور حکومت میں گولاگ کی ہولناکیوں سے دنیا کو آگاہ کیا۔ اس پہلی کتاب نے ہر ایک کو حیرت میں ڈال دیا اور پہلی بار دنیا کے سامنے جبری مشقت کے کیپموں کے اندر کی کہانی منظرعام پرآئی۔ سوویت یونین میں گولاگ پر تنقید کرنے والی ان کی ادبی کاوشوں کی بدولت انہیں ادب کا نوبل انعام کا حق دار قرار دیا گیا جس کے بعد انہیں عالمی شہرت حاصل ہوئی۔

اگلے چند سالوں کے دوران سولزینتسن نے ایک اور کتاب "دی گولاگ آرکپیلاگو" شائع کی ، جس میں انہوں نے سوویت جبری مشقت کے کیمپ کے نظام اور اس کے اندر موجود نظربندوں کے مصائب کا پردہ چاک کیا۔ ان کی اس کتاب سے سوویت عہدیدار ناراض ہوگئے۔ چنانچہ حکومت نے 1974 میں سولزینتسن سے شہریت واپس لینے اور اسے ملک سے بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلاوطنی کے بعد وہ امریکا چلے گئے اور وہاں سے وہ مغربی جرمنی منتقل ہوئے۔ وہ 20 سال جلاوطن رہنے کے بعد سوویت یونین کے خاتمے کے بعد وطن واپس لوٹے۔