.

سعودی فن کار اپنے خاص انداز کے ساتھ 'انسانی زندگی' پیش کرنے میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی ارٹسٹ نائف سوید نے اپنے فن پاروں میں ایک مختلف زبان کے ذریعے سعودی انسان کی کہانی بیرونی دنیا تک پہنچانے کی کوشش کی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے نائف نے بتایا کہ وہ الدرب ضلع کے جغرافیے اور قدرتی نوعیت سے متاثر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ "میں نے کچھ عرصہ قبل پیش کیے جانے والے اپنے فنی موضوعات میں تنوع پیدا کیا۔ ان میں کرونا وائرس کی وبا کا مقابلہ کرنے والے دلیر افراد، قرنطینہ میں رہنے والے لوگ، عربی گھوڑے، سعودی معاشرے میں زندگی کی نوعیت شامل ہے۔ میں نے اس مقصد کے لیے جدت طرازی اور تخلیق پر کام کیا۔ میں نے سعودی عرب کی سطح پر کئی نمائشوں میں اپنے فن پاروں کے ساتھ شرکت کی اور کئی انعامات حاصل کیے"۔

نائف سوید نے بچپن میں قرآن کریم حفظ کرنے کے مراکز میں تعلیم حاصل کی۔ طلبہ کی غیر نصابی سرگرمیوں کے دوران ایک مرتبہ استاد نے خاکہ سازی کی سرگرمی انجام دینے کا مطالبہ کیا۔ اس روز نائف نے کاغذ پر کھیل کا میدان بنایا جس پر استاد کی جانب سے ستائش ہوئی۔ اس موقع پر نائف کو محسوس ہوا کہ وہ فن کی دنیا میں اچھا کام کر سکتے ہیں۔

نائف کا کہنا ہے کہ "ان کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ فن پاروں میں ایسی شخصیات کو پیش کیا جائے جنہوں نے انسانیت کی خدمت کی۔ سماجی رابطوں کے ذرائع اور ٹکنالوجی نے فن کار کے لیے مناسب لوازمات تک پہنچنا آسان اور مختصر کر دیا ہے۔ قدرت، تخیل اور سوچ یہ میرے نزدیک موضوعات کی آمد کے ذرائع ہیں۔ اب میری خواہش ہے کہ میرے فن پارے دنیا کے سب سے بڑے عجائب خانوں اور نمائشوں میں جگہ پائیں"۔