.

داعش نے ایزدی بچّوں کو اغوا اور’’ذہنی غسل‘‘ کے بعد کیسے فوجی بنایا؟

داعش کے ہتھے چڑھنے اور پھر بچ نکلنے والے ایزدی نوجوان کی کہانی اس کی اپنی زبانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے عراق اور شام کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں پر قبضے کے بعد مسلمانوں کو تو اپنی صفوں میں زبردستی شامل کیا ہی تھا مگر انھوں نے غیرمسلموں کو بھی نہیں بخشا تھا اور عراق کے شمال میں صدیوں سے آباد غیرمسلم ایزدی (یزیدی) اقلیت سے تعلق رکھنے والے بیسیوں افراد کو زبردستی اسلام میں داخل کیا اور پھر انھیں عسکری تربیت دے کر میدانِ جنگ میں اتار دیا تھا۔

عشراوی قاسم عبداللہ ایسے ہی یزیدیوں میں سے ایک تھا۔اس نےالعربیہ کے پروگرام بالمشافہہ (فیس ٹو فیس) میں رولاالخطیب سے گفتگو کرتے ہوئے بعض ہوشربا انکشافات کیے ہیں۔داعش نے عشراوی عبداللہ اور ایزدی فرقے سے تعلق رکھنے والے دوسرے کم سن لڑکوں اور نوجوانوں کو اغوا کے بعد اسلام میں داخل کیا تھا اور پھر انھیں کیمپوں میں دینی تعلیم اور فوجی تربیت دی تھی۔

گذشتہ برسوں میں داعش کی چیرہ دستیوں کے نتیجے میں بے گھرہونے والے سیکڑوں ایزدی خاندان اس وقت عراق کے خودمختار علاقے کردستان کی گورنر دھوک میں شامیشکو کیمپ میں رہ رہے ہیں۔یہ کیمپ عراق اور ترکی کے درمیان سرحدی علاقے میں ضلع زخو میں واقع ہے۔عشراوی عبداللہ بھی داعش کے چنگل سے بچنے کے بعد وہاں پہنچنے میں کامیاب ہوگیا تھا اور اب وہیں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہا ہے۔

اس نے رولا الخطیب سے گفتگو کرتے ہوئے داعش کے کیمپ میں دی جانے والی عسکری تربیت کے بارے میں بتایا کہ ’’وہ ہمیں اسکول (مدرسہ) میں قرآن پڑھنے کے لیے بھیجتے تھے۔رات کو ہمیں داعش کی لوگوں کے سرقلم کرنے،ہلاکتوں اور لڑائی کی ویڈیوز دکھائی جاتی تھیں۔‘‘

وہ بتاتے ہیں’’بعض اوقات (داعش) ہمیں قرآن پڑھنا سکھاتے اور نماز کی ادائی کا طریقہ بتاتے تھے لیکن تب تک ہم ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔‘‘

عشراوی عبداللہ کے بہ قول داعش نے ایک مرتبہ تو چالیس ایزدی بچّوں کو اغوا کر لیا تھا۔انھیں عراق کے شمالی شہر موصل میں قائم ایک کیمپ میں منتقل کیا تھا۔وہیں انھیں مذہبی تعلیم دینے کا آغاز کیا اور پھر اسلام میں داخل کر لیا تھا۔

وہ بتاتے ہیں:’’ان بچوں کو یہ سکھایا جاتا تھا کہ جوکوئی بھی داعش کے ساتھ نہیں، وہ ان کا مخالف اور دشمن ہے۔ وہ اس کو ’’کافر‘‘ قرار دیتے تھے۔وہاں تربیت پانے والے تمام لڑکے اس میں یقین رکھتے تھے۔‘‘

عشراوی عبداللہ نے یہ اقرار کیا کہ اس نے داعش کی جنگوں میں توضرور شمولیت اختیار کی تھی لیکن وہ یقین یہ نہیں کہہ سکتے کہ انھوں نے کسی کو لڑائی میں مارا بھی تھا کیونکہ انھوں نے چھوٹے پیمانے پر ہونے والی لڑائیوں میں حصہ لیا تھا۔

انھوں نے انٹرویو میں بتایا کہ ’’ہم لڑائی میں مرنے یا جیتنے کے لیے جاتے تھے۔یہ شہادت ہوتی تھی یا پھرہمیں فتح ملتی تھی۔داعش کے جنگجو لڑائی سے کبھی نہیں گھبرائے۔وہ نڈر تھے۔‘‘

ان کے بہ قول بچّہ فوجیوں کو تربیت کے وقت یہ باور کرایا جاتا تھا کہ وہ اگر کافر رہتے ہیں تو وہ اپنے خاندانوں سمیت جہنم میں جائیں گے لیکن اگر مسلمان ہوجاتے ہیں تو پھرمرنے کے بعد جنت میں پُرتعیش زندگی گزاریں گے اوروہاں انھیں 72 حُوریں ملیں گی۔

عشراوی عبداللہ کی زندگی میں اس وقت انقلاب رونما ہوا جب اس کی ایک ایزدی لڑکی دالیا سے شادی ہوگئی۔دالیا کو بھی داعش نے اغوا کے بعد قیدی بنا لیا تھا۔اس نوجوان نے انٹرویو میں کھلے دل سے یہ اعتراف کیا کہ وہ داعش کے ساتھ زیادہ خوش تھا اور اس نے تو اپنے خاندان کے پاس واپس آنے کا سوچا بھی نہیں تھا۔

وہ داعش کے ہاں خود کو اپنے خاندان اورایزدی کمیونٹی سے بھی زیادہ محفوظ اور بہتر سمجھتا تھا۔ وہ ان کے نظریے کو اس حد تک قبول کرچکا تھا کہ وہ ان کے کہنے پراپنے جسم کے ساتھ بارود باندھ کر خود کو اڑا سکتا تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ جنت میں اس کو اس کا بدلہ مل جائے گا۔

اس نوجوان کا کہنا تھا کہ اگر داعش شکست سے دوچار نہیں ہوتے اور بدستور اقتدار ان کے پاس رہتا تو میں کبھی انھیں نہیں چھوڑتا۔اس نے بتایا کہ ارشد نام کا ایک عراقی ان کے ساتھ سکیورٹی افسر کے طور پر رہتا تھا اور وہ ان سے اچھا برتاؤ کرتا تھا۔

داعش کے بعد زندگی

عشراوی عبداللہ اور دالیا اب ایک بیٹا ہے۔اس کی اہلیہ نے بھی داعش کی حراست کے دوران میں اسلام قبول کر لیا تھا۔

اس نے العربیہ سے گفتگو میں بتایا کہ ’’داعش کا ایک جنگجو ان کے ساتھ تھا۔پھر اس نے ہمیں آزادی دے دی اور مجھ سے یہ پوچھا کہ کیا میں عشراوی سے شادی کرنا چاہتی ہوں تو میں نے یہ رشتہ قبول کر لیا۔‘‘

دالیا نے یہ اعتراف کیا کہ ’’وہ داعش کی حراست میں خوش نہیں تھی لیکن وہ دوبارہ اپنے یزیدی راستے پر چلنے سے بھی خوف زدہ تھی۔انھوں نے ہمیں یہ بتایا تھا کہ اگر ہم واپس گئے تو ہمیں قتل کردیا جائے گا۔انھوں نے مجھے نماز سکھائی اور دین اسلام کے بارے میں بتایا اور میں مسلمان ہوگئی تھی۔‘‘

وہ بتاتی ہیں کہ ’’اس وقت بھی بہت سے ایزدی لوگ داعش کے ساتھ ہیں اور وہ واپس نہیں آئیں گے۔بعض ایزدی عورتوں کے داعش کے جنگجوؤں سے بچّے ہیں۔بعض نے تو بچّے انھیں کے پاس چھوڑ کر واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ باقی عورتوں نے اپنے بچّوں کے ساتھ ہی رہنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن وہاں وہ خوش نہیں ہیں۔‘‘

العربیہ کی رپورٹررولا الخطیب نے شام اور عراق میں حراستی مراکز اور جیلوں میں جا کر داعش کے سابق جنگجوؤں اور ان کی خواتین کے بیانات ریکارڈ کیے ہیں اورداعش کی جنگی زندگی سے متعلق اس طرح کی تفصیل العربیہ کے پروگرام ’’بالمشافہہ‘‘ کے ذریعے پہلی مرتبہ منظرعام پرآئی ہے۔