.

کووِڈ-19:روسی ساختہ سپوتنک پنجم ویکسین 97 فی صدسے زیادہ مؤثر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس کے معروف سائنسدان ڈینس لوگونوف نے کہا ہے کہ سپوتنک پنجم ویکسین کووِڈ-19 کے مقابلے میں حقیقی جائزے میں 97۰6 فی صد مؤثرثابت ہوئی ہے۔انھوں نے 38 لاکھ افراد سے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کیا ہے۔

ڈاکٹر ڈینس لوگونوف کی قیادت میں روسی سائنس دانوں نے گذشتہ سال کروناوائرس کے علاج کے لیے سپوتنک پنجم ویکسین تیار کی تھی۔

انھوں نے روسی اکادمی برائے سائنسز میں ایک پریزینٹیشن میں بتایا ہے کہ ’’ماسکو کے جمالیا انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دانوں نے اس ویکسین کے دونوں انجیکشن لگوانے والے افراد سے حاصل شدہ ڈیٹا کو تازہ تجزیے کے لیے استعمال کیا ہے۔انھوں اس حقیقی دنیا کے فراہم کردہ اعداد وشمار کی بنا پریہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ روسی ساختہ ویکسین 97۰6 فی صد تک مؤثر ہے۔

قبل ازیں اس سال کے اوائل میں جریدے دا لانسیٹ نے ایک تجزیاتی رپورٹ میں بتایا تھا کہ روس کی تیارکردہ ویکسین سپوتنک پنجم کووِڈ-19 کے مرض کے خلاف 91۰6 فی صد مؤثر ثابت ہوئی ہے۔تب آزاد ماہرین نے اس ویکسین کے 90 فی صد سے زیادہ مؤثر ہونے کی تصدیق کی تھی۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کی نگران مصنفہ اور روس کے جمالیا قومی مرکز برائے وبائی امراض اور مائیکروبائیالوجی کی ماہر انا دولژیکوفا کا کہناتھا کہ’’ابتدائی حاصلات سے یہ ظاہر ہوا ہے،سپوتنک پنجم کی دو خوراکیں زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہیں اور حتمی کلینکی جانچ کے دوران میں 18 سال سے زیادہ عمر کے شرکاء میں اس نے بہتر نتائج دیے ہیں۔‘‘

روس نے اس ویکسین کے استعمال کی منظوری کے وقت کہا تھا کہ یہ کلینکی آزمائش میں کووِڈ-19 کے مریضوں کے علاج میں 95 فی صد سے زیادہ مؤثر ثابت ہوئی ہے۔

روس کی وزارتِ صحت کے تحت جمالیا قومی تحقیقاتی مرکز برائے وبائی امراض اور مائیکروبیالوجی ہی نے یہ ویکسین تیار کی ہے۔اس ویکسین کی تحقیق اور تیاری کے لیے روس کے خود مختار دولت فنڈ(رشین ڈائریکٹ انویسٹمنٹ فنڈ) نے رقوم مہیا کی تھیں۔

اس کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں سپوتنک پنجم کی ایک خوراک کی لاگت 10 ڈالر سے کم ہوگی۔ایک فرد کو اس ویکسین کی دو خوراکیں لگانے کی ضرورت ہوگی اور ان دونوں کی کل قیمت 20 ڈالر سے بھی کم ہوگی۔روسی فنڈ کے مطابق سپوتنک ایم آر این اے ٹیکنالوجی پر مبنی دوسری غیرملکی ویکسینوں کے مقابلے میں دُگنا یا اس سے بھی زیادہ سستی ہوگی۔روسی شہریوں کو یہ ویکسین مفت لگائی جارہی ہے۔

روس نے اس ویکسین کی خشک شکل میں بھی پیداوارشروع کردی ہے۔اس کو دو سے آٹھ ڈگری سینٹی گریڈ تک ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔اس طرح اس کی عالمی مارکیٹ میں ترسیل اور تقسیم آسان ہوگی اور اس کو دور درازایسے علاقوں تک بھی پہنچایا جاسکے گا جہاں کا درجہ حرارت غیرمستحکم رہتا ہے۔