.
العربیہ خصوصی رپورٹ

رزق حلال کی متلاشی سفید پوش مصری خاتون سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روز مرہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت کم لوگ رزق حلال پر قناعت کرتے ہیں۔ مادی دوڑ میں بعض اوقات انسان حلال وحرام کی تمیز بھی بھول جاتا ہے مگر معاشرے میں ایسے لوگ بھی خال خال نظر آتے ہیں جو تھوڑا کمانے پر قناعت کرتے مگر رزق حلال کی تلاش کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہیں۔

اس رپورٹ میں ایک ایسی ہی ایک مصری خاتون کا احوال بیان کیا جا رہا ہے جو سفید پوش ہونے کے باوجود رزق حلال کی متلاشی ہیں اور اپنے یتیم بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے وہ حلال رزق کےحصول کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔

حال ہی میں 55 سالہ رضا محمد جمعہ نامی خاتون کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ اس ویڈیو میں وہ ایک مقامی صحافی احمد رافت سے بات کرتے ہوئے اس کی طرف سے کھانے کی کوئی چیز لینے میں متردد دکھائی دیتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے رضا محمد جمعہ کا کہنا تھا کہ اس کے چار بچے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ اس کے شوہر دل کے عارضے اور گردوں میں تکلیف کے باعث انتقال کرگئے تھے۔ رضا جنوبی قاہرہ کے کرداسہ شہر کے ایک مضافاتی علاقے میں رہتی ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ ایک جگہ کام کرتی ہے جہاں اسے 1500 مصری پائونڈ اجرتی ملتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو رزق حلال کھلاتی ہے اور کسی سے ایسی کوئی چیز نہیں لیتی جس میں اسے حرام کا شبہ بھی ہو۔

رضا جمعہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو بھی رزق حلال کمانا سکھاتی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ رزق حلال کمانے میں مشقت زیادہ کرنا پڑتی ہے اور انسان تھک ہار کرحلال رزق حاصل کرتا ہے۔ رضا جمعہ ہرکسی سے کوئی تحفہ لینے میں بھی متامل رہتی رہیں۔ اس کی وجہ اس کا بہت زیادہ رزق حلال کے حوالے سےحساس ہونا ہے۔

اس نے بتایا مجھے جہاں کہیں سے کوئی چیز حاصل ہوتی ہے تو میں اس کےحلال ہونے کے بارے میں پوری طرح تسلی کرتی ہوں اور اس کے بعد اسے اپنے اور اپنے بچوں کے استعمال میں لاتی ہوں۔

اسے 1500 پاونڈ کی رقم تحفے میں ملی تو اس نے اس رقم کا ایک بڑا حصہ دوسرے لوگوں میں بانٹ دیا اور اپنے لیے بہت تھوڑی رقم رکھی۔