.

یواے ای:صحرامیں خیمے لگانے والوں کے پلاسٹک کچرے سے سیکڑوں اونٹوں کی موت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں شہری زندگی سے اکتاکر صحرا کا رُخ کرنے والے تفریح کے دلدادہ حضرات اپنے پیچھے پلاسٹک کی آلودگی چھوڑجاتے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں یہ آلودگی کیا رنگ دکھا رہی ہے۔جی ہاں! یہ صحرا میں چرنے والے اونٹوں کے علاوہ جنگلی حیات کا موت کا سبب بن رہی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے ایک ویٹرنری سائنس دان کے مطابق اب تک پلاسٹک کے شاپروں اور دوسری باقیات کو نگلنے کے نتیجے میں سیکڑوں اونٹوں کی موت واقع ہوچکی ہے۔

دبئی میں یو اے ای کی سنٹرل ریسرچ لیبارٹری کے سربراہ ماہرحیوانیات اور مائیکروبیالوجسٹ ڈاکٹر الرچ ورنرے بتاتے ہیں کہ صحرا میں اونٹ چارے کے ساتھ پلاسٹک کے ٹکڑوں کو بھی نگل لیتے ہیں ،وہ ان کے معدے یا انتڑویوں میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں، ہضم نہیں ہوتے ہیں اور بالآخران کی موت کا سبب بنتے ہیں۔

انھوں نے العربیہ کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’صحرا میں پڑے کچرے سے اونٹوں کے علاوہ بھی بہت سے جانوروں کی موت واقع ہوچکی ہے۔ان میں کچھوے،ہرن اور بھیڑیں شامل ہیں۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’کووِڈ-19 کی وبا پھیلنے کے بعد سے صحرا میں ہم نے زیادہ کچرا دیکھا ہے۔اب لوگ پہلے سے زیادہ تعداد میں بالخصوص اختتام ہفتہ پر شہروں سے صحرا کا رُخ کررہے ہیں۔وہ وہاں خیمے لگاتے اورباربی کیو کا اہتمام کرتے ہیں لیکن اس کے بعد وہ وہاں جو گند پھیلا جاتے ہیں، وہ بالکل ناقابل بیان ہے۔‘‘

ان کا کہنا تھا کہ ’’صحرا میں تیز ہوائیں اور آندھیاں چلنے کے بعد پلاسٹک کے تھیلے اور دوسرا کچرا ادھرادھر بکھر جاتا ہے۔پلاسٹک کوجب اونٹ نگل لیتے ہیں تو اس سے ان کی انتڑیوں میں رکاوٹ یا سوزش پیدا ہوجاتی ہے اور پھر وہ بیکٹریائی امراض کا شکار ہوجاتے ہیں۔‘‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ پلاسٹک سے اونٹوں میں معدے کا السر بن جاتا ہے اور وہ انھیں شدید تکلیف میں مبتلا کردیتا ہے۔اس کی وجہ سے انھیں لگتا ہے کہ ان کا پیٹ بھرا ہوا ہے،وہ پھر مناسب مقدار میں چارہ کھانا چھوڑدیتے ہیں،چرتے نہیں۔اس سے ان کی آنتڑیوں سے خون رسنا شروع ہوجاتا ہے۔وہ پانی اور خوراک کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں اور پھر ان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔

ڈاکٹرورنرے کی سربراہی میں ایک ٹیم نے خطے میں اونٹوں کی اموات کا تفصیل سے تحقیقی جائزہ لیا ہے۔اس تحقیقی مطالعے کا عنوان :’’پلاسٹک کچرا کھانے والے اونٹوں کا المیہ‘‘ ہے۔یہ تحقیقی مقالہ اس سال کے اوائل میں جرنل برائے بارانی ماحول میں شائع ہوا تھا۔

اس تحقیقاتی ٹیم نے 2008ء کے بعد تین ہزار مردہ اونٹوں کا معائنہ کیا ہے۔ان میں سے ایک فی صد یعنی 300 اونٹوں کے معدے پلاسٹک سے بھرے ہوئے تھے۔اس مطالعے کے دوران میں ٹیم نے ایک ایسے اونٹ کا طبی معائنہ بھی کیا تھا جس کے معدے میں پلاسٹک کے 200 تھیلے پائے گئے تھے۔

ڈاکٹرورنرے کا کہنا ہے کہ ’’اونٹوں اور دوسرے جانوروں کے تحفظ اوربقا کے لیے پلاسٹک کے استعمال پر پابندی کا نفاذ ضروری ہے۔ یو اے ای کی حکومت کو تو پہلے قدم کے طور پر ایک ہی مرتبہ استعمال کے بعدایسے ہی پھینک دیے جانے والے پلاسٹک کے تھیلوں پر پابندی عاید کردینی چاہیے۔‘‘