.

دنیا میں کووِڈ-19 کی ویکسین کے ایک ارب سے زیادہ انجیکشن لگا دیے گئے: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دنیا بھر میں کروناوائرس کی ویکسینوں کے ایک ارب سے زیادہ انجیکشن لگا دیے گئے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے صرف چارماہ قبل کووِڈ-19 کی پہلی ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری دی تھی۔اس کے بعد مختلف ملکوں نے ویکسینوں کا عام استعمال شروع کردیا تھا۔

فوربس میگزین کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں اتنی زیادہ تعداد میں ویکسینیں لگانے کے باوجود ابھی تک ان کی منصفانہ تقسیم کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا اور عالمی وبا کے مقابلے میں اس کی تقسیم کے عمل میں عدم مساوات کا چلن ہے۔اب تک امیرممالک میں تو ویکسین عام دستیاب ہے لیکن غریب ممالک کی آبادی کی پہنچ سے دورہے۔

بلومبرگ کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق 27 اپریل تک ایک ارب 6 کروڑ خوراکیں 57 کروڑ افراد کو لگائی جاچکی تھیں۔یہ تعداد دنیا کی کل سات ارب 79 کروڑآبادی کا 7۰3 فی صد ہے۔

اس وقت دنیا بھرمیں کرونا وائرس کی ویکسین کی روزانہ ایک کروڑ 85 لاکھ خوراکیں لگائی جارہی ہیں۔اگر یہی رفتار برقرار رہتی ہے تو دنیا کی 75 فی صد آبادی کو ویکسین لگوانے کے لیے مزید 19 ماہ لگ سکتے ہیں۔

آن لائن نیوز میڈیا سائنٹفک امریکن نے ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنس دان سومیا سوامی ناتھن کا ایک بیان نقل کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ’’یہ ایک بے مثال سائنسی کامیابی ہے۔کوئی شخص یہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کہ ایک نئے وائرس کی تشخیص کے صرف سولہ ماہ کے اندر دنیا بھر میں ایک ارب افراد کو مختلف اقسام کی ویکسینیں لگادی جائیں گی اور مختلف ممالک اس وائرس کی ویکسینیں تیار کررہے ہوں گے۔‘‘

ویکسین کی تقسیم میں عدم مساوات

دنیا کے لیے یہ سنگ میل ایک عظیم کامیابی کا مظہر ہے۔اس سے یہ امید بھی پیدا ہوئی ہے کہ دنیا جلد معمول کے حالات کی جانب لوٹ آئے گی لیکن ویکسین کی غیرمساوی تقسیم کے عمل نے ایک طرح سے عدم مساوات بھی پیدا کردی ہے۔دنیا کو کروناوائرس کی وبا سے نجات دلانے کے لیے اس مسئلہ کا حل بھی ضروری ہے۔

امریکا کی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے گذشتہ ہفتے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ویکسین کی 87 فی صد خوراکیں دنیا کی دولت مند اقوام میں لگائی گئی ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ امیرممالک میں ہرچارافراد میں سے ایک کو ویکسین کی کم سے کم ایک خوراک لگائی جاچکی ہے جبکہ غریب ممالک میں ہر 500 میں سے صرف ایک شخص کو ویکسین لگ سکی ہے۔

اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت ویکسین کی مساوی بنیاد پر تقسیم کی اشد ضرورت ہے۔نیویارک ٹائمز کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق دستیاب ویکسینوں میں سے صرف 0۰2 فی صد خوراکیں کم آمدن والے ممالک میں تقسیم کی جاسکی ہیں جبکہ صرف امریکا میں ویکسین لوگوں کی طلب کے مقابلے میں وافر تعداد میں دستیاب ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی کے صرف چند طبقات کو ویکسین لگانا کوئی مؤثر حکمت عملی نہیں ہے جبکہ باقیوں کو کرونا وائرس کی نئی شکلوں کے مقابلے کے لیے چھوڑ دینا قرین انصاف نہیں ہے۔عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے ایک عالمی ردعمل ہی کی ضرورت ہے۔