.

مصرمیں 'حاملہ' ممی کی حیران کن دریافت، مگر یہ پہلا کیس نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گذشتہ ہفتے پولینڈ کے محققین نے ایک قدیم ممی کی دریافت کا اعلان کیا۔ یہ ممی کسی خاتون کی بتائی جاتی ہے جو سات ماہ کی حاملہ تھی۔ اس حوالے سے مصری ماہرین آثار قدیمہ نے مزید تفصیلات بھی جاری کی ہیں۔

نوادرات کے ماہر اور اسوان وزارت نوادرات کے سابق سکریٹری نصر سلامہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو باور کرایا وارسو ممی ایک نادر کیس ہے کیونکہ ایک شخص کی ممی بنائی جاتی ہے مگر اس کیس میں‌ ایک خاتون اور اس کے بطن میں موجود اس کا بچہ بھی ممی کےعمل سے گذرا گیا۔ یہ حیران کن ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ 2010 میں اسی طرح کا معاملہ دریافت کیا گیا تھا۔ گیارہ سال پیشتر سامنے آنے والی ممی ایک بونے قد کی عورت کی تھی جس کی ممی مزدروں کے قبرستان سےملی۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ سنہ 2015 میں چھاتی کے سرطان والی ایک ممی عورت کو اسوان میں شہزادوں کے مقبروں میں دریافت کیا گیا تھا جو 2200 قبل مسیح کے زمانے کی بتائی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ چھاتی کے کینسر کا یہ سب سے قدیم کیس ہوسکتا ہے۔یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ قدیم مصری زمانے میں فوت ہونے والی خاتون چاہے حاملہ ہو یا کسی دوسری بیماری سے فوت ہوجائے تو اسے ممی کی شکل میں محفوظ کیا جاتا تھا۔

بتایا جاتا ہے کہ حاملہ ممی جس کی نقاب کشائی کچھ دن پہلے ہی ہوئی تھی ، سن 1826 میں وارسا پہنچی تھی ، لیکن اس کے تابوت پر لکھے گئے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ مرد کاہن کی تھی۔

اس سے پہلے ماں کا ایکس رے سے معائنہ نہیں کیا گیا تھا لیکن ماہرین نے حال ہی میں ضروری جانچ پڑتال کے بعد انکشاف کیا ہے کہ یہ ایک حاملہ خاتون ہے جس کی عمر 20 سے 30 سال کے درمیان ہوگی جبکہ بچے کی کھوپڑی کے سائز پتا چلتا ہے کہ وہ 26 اور 28 ہفتوں کےدرمیان ہوگا۔