.

سعودی عرب کا ہموار آتش فشاں پہاڑی چٹانوں پر بنا ہوا خوبصورت گاؤں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب سرحدی علاقے عسیر کے شمال میں دو صدیوں سے آباد 'غیہ' نامی قدیم گاؤں سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ گاؤں کے کچے مکان آتش فشاں ہموار چٹانوں کی ڈھلانوں پر تعمیر کیے گئے ہیں۔ انہیں دیکھ کر اس علاقے کی سعودی باسیوں کی پرانی بود وباش اور مقامی آبادی کے آباؤ اجداد کے رہن سہن کا بہ خوبی اندازہ لگا یا جا سکتا ہے۔ اپنے منفرد فن تعمیر اور مقام کی بہ دولت یہ گائوں سیاحوں اور فوٹو گرافروں کے لیے خاص کشش رکھتا ہے۔

جنوبی سعودی عرب کے غیہ گاؤں جانے والے راستوں کا منظر
جنوبی سعودی عرب کے غیہ گاؤں جانے والے راستوں کا منظر

سعودی عرب کے ایک مقامی فوٹو گرافر بداح البداح نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اس نے 'غیہ' گاؤں کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ یہ گاؤں 70 کی دہائی سے غیر آباد ہے مگر اس میں 35 مکانات آج بھی موجود ہیں جو ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ ان مکانوں کے بیچ پرانی مسجد اور ایک چشمہ بھی ہے۔ گھروں کے اطراف میں ڈھلوانی زمین ہونے کے باوجود لوگوں‌ کے کھیت ہیں۔ پہلے زمانے میں لوگ پیدل چل کر'غیہ' پہنچتے تھے۔ چٹانوں پر پاؤں پھسلنے سے بچنے کے لیے لوگ پلاسٹر کا استعمال کرتے تھے۔ غیہ کے باشندوں کا سب سے بڑا ذریعہ معاش زراعت تھا۔ یہ لوگ مختلف انواع کی فصلیں اور اناج کاشت کرتے۔ موشی پالتے اور ان کا گوشت کھاتے۔

غیہ گاؤں کی ہموار پتھریلی چٹانیں
غیہ گاؤں کی ہموار پتھریلی چٹانیں

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے فوٹو گرافر البداح نے بتایا کہ 'غیہ' گائوں عسیر کے شمال میں واقع ایک خوبصورت مقام ہے۔ اس کے اطراف میں ہر بھرے کھیت ہیں۔ یہ گائوں آل صمید الصلیحی قبیلے نے قائم کیا اور اس میں گھروں کی تعمیر مٹی، گارے، پتھروں اور لکڑی سے کی گئی۔ گاؤں کے مکانوں تک دشوار گذار چٹانوں سے گذر کر پہنچا جاتا اور گاؤں تک پہنچنے کے لیے کم سے کم دو گھنٹے لگ جاتے تھے۔

غیہ گاؤں
غیہ گاؤں

ایک سوال کے جواب میں البداح نے بتایا کہ غیہ گائوں کے اطراف کی چٹانیں آتش فشاں پہاڑوں پر مشتمل ہیں۔ مقامی زبان میں اسے الصفی کہا جاتا ہے۔ یہاں کئی پرانی عمارتیں ہیں۔ درختوں پر کشیدہ کاری کی گئی ہے۔ یہاں پر بیری، مہندی، القاع اور الابرا کے درخت وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔