.

مصر کا مشہور 'عید کیک' جس کی تاریخ فراعنہ سے جا ملتی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں رمضان المبارک کے اختتام اور عید کی آمد کے موقعے پر گھروں میں مختلف اقسام کی مھٹائیاں، کیک اور بسکٹ تیار کیے جاتے ہیں۔ مصر کی عامی زبان میں 'کحک العید' کہا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مصر کے 'عید کیک' پر تحقیق کرتے ہوئے اس کے بارے میں حیران کن معلومات جمع کی ہیں۔

مصر کی عین الشمس یونیورسٹی میں آرٹ کالج کے سیکرٹری اور تاریخ کے استاد ڈاکٹر طارق منصور نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ مصر میں 'کیک' کی طویل تاریخ ہے۔ ایسے لگتا ہےکہ کیک مصریوں کی ایجاد ہے جب کہ اس کے برعکس بسکٹ بہت بعد میں مصر میں تیار ہونے لگے۔ مصر میں کیک مقامی نہیں بلکہ یورپی بالخصوص اٹلی کے ذریعے یہاں متعارف ہوئے۔

ان کا کہنا ہے کہ مصری کیک تیارکرنے والی قدیم ترین قوم ہیں یہاں تک کہ مصر کے فراعنہ کے دور میں بھی ایسی چیزیں بنائی جاتی تھیں۔ تاریخی مصادر سے پتا چلتاہے کہ فراعنہ کے زمانے میں بنائے جانے والے کیک کو'الاقراص' کہا جاتا تھا۔ یہ گول شکل میں سورج کے گولے کی طرح ہوتے۔

ڈاکٹر منصور نے بتایا کہ پرانے زمانے میں مصر اپنی مذہبی میلوں اور جشن کے مواقع پریہ کیک تیار کرتے۔ یہاں تک کہ آج 21 ویں صدی میں بھی اس کیک کی روایت برقرار ہے۔

یونانی، رومن اور بازنطینی دور

مصرمیں کیک کی تیاری کی تاریخ یہاں پر حکومت کرنے والے فراعنہ، یونانیوں، رومن او بازنطینیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں اسلامی دور کو بھی شامل کرلیا جائے تو یہ بھی ڈیڑھ ہزار سال کا عرصہ بنا ہے۔ 868 سے 904ء کے دوران طولونی عہد میں مخصوص قالب میں کیک تیار کیے جاتے۔ اس کے بعد یہ فن احشدی حکومت تک پہنچا۔ احشدی بھی اسے تہواروں کی خصوصی سوغات قرار دیتے۔ بعض مورخین کا خیال ہے کہ مصر میں کیک 'الطولونی' دور کی ایجاد ہے۔


909 سے 1171 کے دوران فاطمی خلافت کے عرصے میں مذہبی مواقع پر یہ کیک تیار کیا جاتا۔ فاطمی خلیفہ کے لیے عید کے موقعے پر کیک بنایا جاتا۔ خلیفہ کی طرف سے کیک کی تیاری کے لیے 20 ہزار دینار مختص کیے جاتے۔

ممالیک کے دور 1250ء سے 1517ء تک ممالیک امرا بھی باقاعدگی کے ساتھ عید کیک بنواتے۔ ممالیک حکمراں عید کیک غریبوں میں‌تقسیم کراتے اور صدقہ کے طور پر دیتے۔

خاص طورپر شہزادہ تتر الحجازیہ اسکول میں کیک تیار کیا جاتا اور ملازمین میں عید کے موقعے پر تقسیم کیا جاتا تھا۔