.
اوپیک پلس

مئی میں مملکت کی تیل کی روزانہ پیداوار 8.48 ملین بیرل رہی: سعودی وزیر توانائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا کہنا ہے کہ ’دنیا بھر میں جاری ویکسین مہم کی بدولت تیل منڈیوں میں مزید توازن بحال ہوگا‘ شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان کا مزید یہ بھی کہنا تھا کہ’ امریکہ اور چین کی جانب سے تیل کی طلب بہتر ہوئی ہے تاہم منظر نامہ ابھی تک واضح نہیں ہے‘۔ سعودی وزیر توانائی نے کہا ہے کہ سعودی عرب نے مئی میں روزانہ 8.48 ملین بیرل تیل نکالا ہے۔

تیل پیدا کرنے والے ممالک کے وزرائے توانائی نے یہ فیصلہ ایک آن لائن اجلاس میں کیا ہے۔ شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے بتایا کہ ’اجلاس آدھے گھنٹے سے کم جا ری رہا ہے۔ مختصر آن لان اجلاس میں مزید ایرانی تیل کی پیداوار مارکیٹ آنے کے امکان پر تبادلہ خیال نہیں کیا گیا‘۔

سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا کہ’ مارکیٹ کی حالیہ پیش رفت نے تصدیق کی ہے کہ اپریل میں تیل کی پیداوار میں بتدریج بڑھانے کا فیصلہ درست تھا‘۔ ادھر اوپیک اور تیل پیدا کرنے والے دیگر اتحادی ممالک نے معیشتوں کی بحالی پر خام تیل پیداوار یومیہ 2.1 ملین بیرل بڑھانے کے منصوبے کی تصدیق کی ہے۔

دوسری طرف تیل پیدا کرنے والے ممالک کا کہنا ہے کہ اگر ایک طرف تیل کی طلب بہتر ہو رہی ہے تو دوسری جانب اس کا بھی امکان ہے کہ ایران کے لیے تیل منڈی کے دروازے کھل جائیں۔

اوپیک پلس میں شامل ممالک نے اپریل میں 2.1 ملین بیرل تیل پیداوار میں اضافے کا فیصلہ کیا تھا۔ طے کیا گیا تھا کہ مئی سے جولائی تک اضافہ ہوگا۔ انڈیا میں کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد بڑھنے کے باوجود تیل کی عالمی طلب میں اضافے کی توقعات کی بنیاد پر2.1 ملین بیرل پیداوار بڑھانے کی بات طے پائی تھی۔

درایں اثنا اوپیک پلس کے منگل کے اجلاس میں طے کیا گیا ہے کہ جون اور جولائی کے دوران تیل پیداوار میں تخفیف کی موجودہ سکیموں کی پابندی کی جائے گی۔ گروپ میں شامل ممالک نے اگست کے حوالے سے پیداواری پالیسی پر بحث نہیں کی۔ اوپیک پلس کا نیا اجلاس یکم جولائی کو ہو گا۔

اپریل کے دوران ان فیصلے کے بعد سے تیل کے نرخ بڑھنے شروع ہوئے اور سال رواں کے شروع سے اب تک 30 فیصد تک کا اضافہ ہوا تاہم ایٹمی معاہدے کے مذاکرات کے تناظر میں ایران کی تیل پیداوار میں اضافے کے امکان نے تیل کے بڑھتے ہوئے نرخ کی لہر کو روک لگا دی ہے۔

اوپیک کے سیکریٹری جنرل محمد بارکندو کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں ایرانی تیل پیداوار میں اضافے سے کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہو گا۔