.

یواے ای:سائنوفارم ویکسین لگوانے والوں کے لیے فائزرکی تیسری خوراک محفوظ قرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات میں ڈاکٹروں نے قراردیا ہے کہ سائنوفارم ویکسین کی دونوں خوراکیں لگوانے والے افراد کے لیے فائزرکی تیارکردہ ویکسین کی تیسری خوراک بالکل محفوظ ہے۔اس سے انھیں کووِڈ-19کے خلاف تحفظ کی پرت کو مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

یواے ای کی حکومت نے گذشتہ ہفتے سائنوفارم کی دونوں خوراکیں لگوانے والے افراد کو فائزر ویکسین کی تیسری اضافی خوراک لگانے کا اعلان کیا تھا۔واضح رہے کہ یو اے ای نے گذشتہ سال دسمبر میں پہلے پہل اپنے شہریوں اورمکینوں کو سائنوفارم کی ویکسین لگانے کاآغاز کیا تھا۔اس کے بعد اس نے دوسری ویکسینیں لگانے کی اجازت دی تھی۔

مئی میں یو اے ای نے سائنوفارم کی تیسری خوراک لگانے کا اعلان کیا تھا تاکہ چھے ماہ پہلے اس ویکسین کے دو انجیکشن لگوانے والے افراد کوکووِڈ-19 سے محفوظ رکھا جاسکے لیکن اب اس نے گذشتہ جمعہ کو فائزر اور بائیواین ٹیک کی تیار کردہ ویکسین کی تیسری خوراک لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ہمسایہ خلیجی ریاست بحرین نے بھی اسی قسم کا اعلان کیا ہے۔

اماراتی ڈاکٹروں نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ فائزرکی ویکسین کا اضافی انجیکشن آبادی کو کرونا وائرس کے مقابلے میں زیادہ سے زیادہ تحفظ مہیا کرنے کے لیے ملک کی فعال حکمت عملی کا حصہ ہے۔

شارجہ میں واقع برجیل اسپیشلٹی اسپتال میں داخلی میڈیسن کے ماہر ڈاکٹرراجیش کمار گپتا کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کو سائنوفارم کی ویکسین کا دوسرا انجیکشن لگے چھے ماہ مکمل ہوچکے ہیں، انھیں اب تیسری اضافی تقویتی خوراک لگائی جائے گی۔اس کا مقصد لوگوں کی قوتِ مدافعت میں اضافہ کرنا ہے۔اگر لوگ فائزر کی تیسری خوراک لگواتے ہیں تو یہ ان کے لیے بالکل محفوظ ہے۔

ڈاکٹرگپتا نے واضح کیا ہے کہ کووِڈ-19 کے اینٹی باڈی ٹیسٹ کرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔اس ٹیسٹ سے اس بات کا تعیّن کیا جاسکتا ہے کہ کیا جسم میں کروناوائرس سے بچاؤ کے لیے قوتِ مدافعت موجودہے اور پھر ویکسین کی تیسری اضافی خوراک لگوائی جاسکتی ہے مگر یہ ٹیسٹ کروانے کی ہرگز ضرورت نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ یو اے ای میں کروناوائرس کی ویکسین لگوانے والے افراد کے مقامی سطح پر جائزے اور مطالعات سے یہ پتاچلاہے کہ بیشترویکسینیں کووِڈ-19 کے مقابلے میں چھے ماہ تک مؤثر ہیں۔نیز اس وائرس کے خطرے کے مکمل خاتمے تک لوگوں کو احتیاطی تدابیر کی پاسداری کرنی چاہیے۔وہ عوامی مقامات پر ماسک پہن کررکھیں اورسماجی میل جول میں فاصلہ اختیارکریں کیونکہ مطالعات سے یہ پتا چلا ہے کہ ویکسین لگوانے والے بعض افراد اس کے باوجود کرونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں۔

ایم بی زیڈ سٹی میں واقع برین انٹرنیشنل اسپتال میں داخلی میڈیسن کے ماہر ڈاکٹرعظیم عبدالسلام محمد نے بھی ان کے مؤقف کی تائید کی ہے اور کہا ہے کہ کسی بھی ویکسین کی تیسری خوراک لی جاسکتی ہے اور یہ بالکل محفوظ ہے۔

گذشتہ ماہ جاما میڈیکل جرنل میں شائع شدہ ایک مطالعہ کے مطابق چینی ساختہ سائنوفارم ویکسین کووِڈ-19 کی علامات کے مقابلے میں 78۰1 فی صدتک مؤثر ہے۔تاہم محققین کا کہنا تھا کہ یو اے ای اور بحرین سمیت ممالک سے اس مطالعے کے لیے ضعیف العمراور دائمی امراض کا شکار افراد کا جمع کردہ ڈیٹا ناکافی تھا۔