.

دبئی میں یاٹس پرسماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے پُرتعیّش تفریح کی پیش کش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دبئی مرینا میں تاحدِ نگاہ ایک مرتبہ پھر یاٹس نظرآنا شروع ہوگئی ہیں۔کووِڈ-19 کی پابندیوں میں نرمی کے بعد سیاحوں کی دوبارہ آمد شروع ہوچکی ہے اور اس خلیجی امارت میں مصنوعی جھیلوں میں سفید لگژری کشتیوں پر سوار ہونے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

دبئی کو جولائی 2020ء سے سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا تھا۔اس کے ریستوران اور ساحل جہاں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں، وہیں لگژری یاٹس بھی ان کے لیے کشش کا ایک سبب ہیں اور ان پر سماجی فاصلہ برقرار رکھتے ہوئے سیر کی جاسکتی ہے۔

لامتناہی فلک بوس عمارتوں کے پہلو میں واقع مصنوعی جزائر میں یاٹس کو اپنی صلاحیت کے 70 فی صد کے ساتھ کام کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ کرایہ کمپنیوں کے مطابق اب یاٹس پر تفریحی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

رائل اسٹار یاٹس نامی چارٹر کمپنی کے ڈائریکٹر محمد السید بتاتے ہیں کہ جب لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی اور صورت حال معمول پر آئی تو لوگ اپنے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ قواعد وضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے کسی محفوظ مقام کی سیر پر جانے کو ترجیح دینے لگے تھے۔

لیکن دبئی میں یاٹس پر یہ سیر سستی نہیں ہے۔42 میٹر کی کشتی پر تین گھنٹے کے سفر کے لیے 18,000 درہم (قریباً 4,000 یورو) تک اخراجات آتے ہیں۔ یہ تمام کرایہ عام طور پر کشتی پر سوار ہونے والے مسافروں میں برابر تقسیم کیا جاتا ہے۔

دبئی اپنے بلند وبالاٹاورز اور لگژری ڈسپلے کے لیے مشہور ہے اور وہ متحدہ عرب امارات میں سب سے زیادہ متنوع معیشت کا حامل ہے۔وہ تیل کی دولت پر انحصار کرتا ہے۔اس کے علاوہ یہاں مالیاتی اداروں کے صدردفاتراور تجارتی مراکز ہیں۔اس کے ہوائی اڈے کی بدولت سیاحتی شعبے نے ترقی کی ہے، وبا سے پہلے ہر سال قریباً ایک کروڑ 60 لاکھ سیاح یہاں آتے تھے۔

اس وقت یو اے ای فی کس ویکسین لگانے کی مہم میں دنیا بھر میں سب سے آگے ہے۔اس سال کے آغاز سے دبئی مین سیاحوں کی دوبارہ آمد سے بہت سی تجارتی سرگرمیوں کوتقویت ملی ہے اور آہستہ آہستہ کرونا وائرس کی وبا سے پہلے کی صورت حال لوٹ رہی ہے۔

دبئی میں ایک یاٹ رینٹل کمپنی کے ذمہ دار کا کہنا ہے کہ’’مارچ 2021ء سے کشتیوں کی مانگ اور ان کے کرایے میں اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ نجی ہوٹلوں اور ساحلوں پر اب بھی بعض پابندیاں عاید ہیں۔‘‘اس وجہ سے بھی لوگ یاٹس کی سیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔

ان کاکہنا ہے کہ تب ہمیں اپنی صلاحیت کے 50 فی صد کے مطابق کام کرنے کی اجازت ملی تھی اور گاہک اپنے دوستوں کے ساتھ سیر وتفریح کے لیے آتے تھے۔اس کے ساتھ ساتھ اب دیگر خدمات مثلاً سمندر کے وسط میں غذائی اشیاء کی ترسیل میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

سات امارتوں پر مشتمل وفاقی ریاست متحدہ عرب امارات میں 30 سال سے زائد عرصے سے مقیم فلسطینی خاتون جیلان ہرز کہتی ہیں کہ ’’کسی یاٹ پر سوار ہونا دنیا سے دور رہتے ہوئے چھت پر سوار ہونے کے مترادف ہے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے آپ بچوں کے ساتھ محفوظ طریقے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں، سمندر کے وسط میں جا سکتے ہیں، پانی کی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتے ہیں۔‘‘

لیکن دبئی میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے پابندیوں کا سخت اطلاق کیا جارہا ہے۔ ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی پابندی عایدہے۔اس امارت کےحکام نے کچھ گروہوں کو قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا ہے اور ان پر بھاری جرمانے عاید کیے ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ مہینوں میں دنیا بھر میں لاک ڈاؤن سے راہ فراراختیارکرکے بہت سے امیرسیاحوں نے دبئی میں عارضی رہائش اختیار کرلی ہے۔