.

کووِڈ-19:ووہان میں ماسک اورسماجی فاصلے کی پابندی کے بغیربڑی گریجوایشن تقریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

چین کے شہرووہان میں ایک جامعہ میں قریباً گیارہ ہزار طلبہ کی اجتماعی گریجوایشن تقریب منعقد کی گئی ہے لیکن اس کی خاص بات یہ تھی کہ اس تقریب کے تمام شرکاء نے کووِڈ-19 سے محفوظ رہنے کے لیے چہروں پر ماسک نہیں پہنے تھے اور وہ کھلے چہروں کے ساتھ تقریب میں ایک دوسرے کے قریب بیٹھے ہوئے تھے۔

ووہان میں دسمبر 2019ء میں سب سے پہلے کروناوائرس پھیلا تھا اور پھر اس وَبا نے چند ایک ماہ میں پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔چینی حکومت نے اس مہلک وائرس کوپھیلنے سے روکنے کے لیے سخت حفاظتی اقدامات کیے تھے اورووہان میں کئی ہفتے تک سخت لاک ڈاؤن نافذ کیے رکھا تھا۔

چینی حکومت کے ان سخت اقدامات کا نتیجہ ہے کہ آج یہ شہر کووِڈ-19 کی وَبا سے محفوظ ہوچکا ہے اور اس کے مکین کسی قسم کی پابندیوں سے آزاد فضا میں سانس لے رہے ہیں۔

ووہان کی سنٹرل چائنا نارمل یونیورسٹی میں منعقدہ گریجوایشن تقریب کے شرکاء نے نیوی گاؤن پہن رکھے تھے۔وہ ساتھ ساتھ قطاروں میں بیٹھے ہوئے تھے۔انھوں نے کوئی سماجی فاصلہ اختیار کیاتھا اور نہ چہرے پر ماسک پہنے ہوئے تھے۔

گذشتہ سال ووہان میں 76 روز تک لاک ڈاؤن نافذ رہا تھا اور اس دوران میں تعلیمی ادارے بند رہے تھے۔جامعات نے آن لائن تدریس شروع کردی تھی اور لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد گذشتہ سال جون میں محدود پیمانے پر گریجوایش تقاریب منعقد کی گئی تھی۔اتوار کو نارمل یونیورسٹی کی تقسیم اسناد کی تقریب میں قریباً 2200 وہ طلبہ شریک تھے جو گذشتہ سال اپنی اسناد وصول نہیں کرسکے تھے۔

چین نے سخت پابندیوں کی بدولت کروناوائرس کی وَبا پر قریب قریب قابوپالیا ہے۔البتہ ایک ارب سے زیادہ آبادی والے اس ملک میں اکا دُکا کیس اب بھی رپورٹ ہورہے ہیں۔

چینی حکام نے منگل کے روز کووِڈ-19 کے 20 نئے کیسوں کی اطلاع دی ہے۔ان میں 18 سمندرپار سے آنے والے افراد تھے اور دو مریضوں کی جنوبی صوبہ گوانگ ڈانگ میں تشخیص ہوئی تھی۔چین میں سرکاری طور پر اب تک کرونا وائرس سے 4636 اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ان میں سے زیادہ تر اموات ووہان ہی میں ہوئی تھیں۔