.

’داعش‘میں شمولیت حماقت تھی، کانیہ ویسٹ کے گانے پسند ہیں: شمیمہ بیگم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز رہنے والی بنگلہ دیشی نژاد برطانوی دوشیزہ شمیمہ بیگم نے ایک مرتبہ پھر داعش میں شمولیت کو اپنی ’بچکانہ حماقت‘ قرار دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے وہ داعش میں شمولیت کے وقت ایک بےوقوف بچّی تھی۔

برطانوی اخبار’مِرر‘ کے مطابق 21 سالہ برطانوی لڑکی نے،جسے ’داعشی دُلھن‘ کا خطاب دیا گیاتھا،ایک بار پھر برطانیہ واپس آنے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ فی الحال وہ ریپ اسٹار کانیہ ویسٹ کے گانے سننا پسند کرتی ہیں۔

اس نے ڈینجرزون کے ڈائریکٹر اندورڈور سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:’’مجھے نہیں لگتا کہ میں ایک دہشت گرد تھی۔ مجھے لگتا ہے کہ میں صرف ایک احمق بچی تھی جس نے یہاں شام میں آکرغلطی کی تھی۔‘‘

شمیمہ بیگم نے مزید کہا کہ ’’ذاتی طور پر مجھے نہیں لگتا کہ مجھے بحالی کی ضرورت ہے لیکن میں دوسروں کی بحالی میں مدد دینا چاہوں گی۔‘‘

داعشی دلھن نے بتایا کہ وہ اس وقت جدید کپڑے پہن رہی ہے کیوں کہ وہ اسے اچھے لگتے ہیں۔ وہ شام کے جس کیمپ میں رہ رہی ہے،اس میں وہ’’امید کی کرن روشن‘‘کرنا چاہتی ہے۔

جب اس سے یہ پوچھا گیا کہ آیا اس کا برطانوی حکومت کے لیے کوئی پیغام ہے تواس نے کہا کہ وہ وطن لوٹنا چاہتی ہے۔

شمیمہ بیگم کو اس وقت شام کے شمال میں واقع الروج کیمپ میں رکھا گیا ہے۔ برطانوی حکومت نے داعش میں شمولیت کے باعث اس کی شہریت منسوخ کردی تھی۔ اب وہ اپنی شہریت کی بحالی کے لیےقانونی جنگ لڑ رہی ہے۔

فروری میں برطانیہ کی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ شمیمہ اپنی شہریت کی تنسیخ کے خلاف اپیل کے لیے برطانیہ واپس نہیں آ سکتی۔

ترکی اور ایران کی سرحدوں کے قریب واقع الروج کیمپ میں 800 کے قریب خاندان رہتے ہیں۔ یہ کیمپ 80 میل دور الہول کیمپ سے کہیں بہتر ہے جس میں 15،000 خاندان رہ رہے ہیں۔