.

لیڈی ڈیانا کی زندگی بچانے کی کوشش کرنےوالا عرب نژاد سرجن کون ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک عرب نژاد فرانسیسی سرجن منصف دھمان کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے برطانوی شہزادی ڈیانا کو 31 اگست 1997 کو پیرس میں ہونے والے خوفناک ٹریفک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد بچانے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کی مگر بد قسمتی سے لیڈی ڈیانا کی جان نہیں بچ سکی۔ ڈاکٹر دھمان کی لیڈی ڈیانا کو بچانے کی کوششوں میں ناکامی نے ان کی ذات پرگہرے اثرات مرتب کیے۔ دوسری طرف لیڈی ڈیانا کی موت نہ صرف برطانیہ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک المناک واقعہ تھا۔

عرب نژاد سرجن ڈاکٹر منصف دھمان کا پہلی بار برطانوی اخبار "ڈیلی میل" کو انٹرویو سامنے آیا ہے۔یہ انٹرویو جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب شائع کیا گیا۔

محض یہ خیال کہ آپ نے ایک اہم فرد کو کھو دیا ، جس کی دیکھ بھال کے لیے آپ ذمہ دار تھے ایک ایسا معاملہ ہے جوآپ کے ساتھ زندگی بھر باقی رہتا ہے ، حالانکہ انہوں نے فرانس کے سب سے بڑے اسپتال میں شہزادی ڈیانا کو بچانے کے لیے طویل عرصے تک انتھک محنت کی تھی۔ .

ڈاکٹر دہمان جو اس وقت فرانسیسی رویرا کے جنوبی قصبے اینٹی بیس میں کام کر رہے ہیں شہزادی کو بچانے کی کوشش میں مرکزی اور ناگزیر کردار ادا کررہے تھے۔حادثے کے نتیجے میں لیڈی ڈیانا کے مصری دوست عماد الفائد جنہیں ڈوڈی کہا جاتا تھا انتقال کرگئے تھے۔ اس حوالے سے سرجن ڈاکٹر دھمان نے کسی میڈیا چینل پر اس حوالے سے انکشافات نہیں کیے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ پیرس کے پیٹ سالپریئر اسپتال میں ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ نے مجھے فوری پہنچنے کو کہا۔ مجھے بتایا گیا کہ ایک لڑکی حادثے میں شدید زخمی ہوئی ہے۔ جلد ہی معلوم ہو گیا کہ زخمی ہونے والی لڑکی برطانوی شہزادی ڈیانا تھی۔

انٹرویو میں ڈاکٹر منصف جو اس دن چھٹی پر نہیں تھے کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی امید سے تھیں۔ وہ خود بھی اسپتال میں تھے۔ ڈاکٹر دھمان نے شہزادی ڈیانا کو مارنے کی کوشش سے متعلق برطانوی "اسٹیبلشمنٹ" کے سازشی نظریات کی تردید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ طبی عملہ جس نے لیڈی ڈیانا کی جان بچانے کی کوشش کی اس میں وہ بھی شامل تھے۔ ان سب نے زخمی لیڈی ڈیانا کو بچانے کی سرتوڑ کوشش کی۔ وہ اسپتال میں معمولی تاخیر سے پہنچے مگر انہوں نے شہزادی ڈیانا کی زندگی بچانے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کی۔

ڈاکٹر دھمان نے بتایا کہ حادثے میں لیڈی ڈیانا کو شدید نوعیت کی چوٹیں آئی تھیں۔ طبی عملے اور ریسکیو ٹیموں نے شہزادی کو جلد ازجلد اسپتال پہنچانے اور اس کی سانسیں برقرار رکھنے کے لیے پوری کوشش کی۔ اس دوران انہیں اسپتال کے چیف اینستھیسیالوجسٹ کا فون آیا۔انہوں نے ایمرجنسی روم میں جانے کے لیے کہا جہاں ایک نوجوان عورت کو المناک حادثے میں زخمی ہونے کے بعد لایا گیا تھا۔ مگر یہ اس مریض کے بارے میں نہیں بتایا گیا کہ یہ لیڈی ڈیانا ہے۔