.

نیوز اینکر نے براہ راست نشر ہونے والے بلیٹن کے دوران کیا بات کر ڈالی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افریقا کے ملک زیمبیا میں ایک ٹی وی چینل کے اینکر نے بلیٹن کے دوران اپنے اور اپنے ساتھی کارکنان کو تنخواہ نہ ملنے کی شکایت پیش کر کے لوگوں کو حیران کر دیا۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق گذشتہ ہفتے کے روز KBN نیوز چینل کے اینکر کیبنڈا کیلمینا نے انگریزی زبان میں بلیٹن پیش کیا۔ معمول کے مطابق اہم خبروں کا ذکر کرتے ہوئے نیوز اینکر نے اچانک رک کر کیمرے کی جانب مخاطب ہو کر کہا کہ "خبروں سے ہٹ کر خواتین و حضرات ہم لوگ انسان ہیں ہم پر اپنی تنخواہوں کا تقاضا کرنا لازم ہے"۔

اس کے بعد ہوا کے دوش پر جاتی کیلمینا کی گفتگو کو منقطع کر کے ایک اور بلیٹن کو شروع سے نشر کر دیا گیا۔

چینل کی جانب سے کیبنڈا کیلمینا کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ "سستی شہرت حاصل کرنے کے واسطے" کی گئی ایک حرکت ہے۔ چینل کے مطابق کلمینا نشے کی حالت میں تھا۔

ادھر کیلمینا نے اس بات کی تردید کرتے ہوئے استفسار کیا ہے کہ "یہ کیسے ممکن ہے کہ مجھ پر نشے کے اثرات ہوں جب کہ میں اس بلیٹن سے قبل تین دیگر پروگرام پیش کر چکا تھا؟"

کیلمینا نے فیس بک پر اس واقعے کی وڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا ہے کہ "جی ہاں میں نے یہ ہوا کے دوش پر براہ راست نشریات میں کیا کیوں کہ زیادہ تر صحافی علانیہ گفتگو سے ڈرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صحافیوں کو بات نہیں کرنا چاہیے"۔

چینل کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نے واقعے کے حوالے سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔