.

سعودی عرب: الاحساء میں تازہ کھجوریں اتارنے کا دلچسپ روایتی طریقہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے علاقے الاحسا کو کھجوروں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر متعدد انواع کی کھجوریں کاشت کی جاتی ہیں۔ کھجوریں جب پک کر تیار ہو جاتی ہیں تو انہیں آج بھی روایتی طریقوں سے اتارا جاتا ہے۔

تازہ نمی سے بھرپور [رطب] کھجوروں [المعروف ڈوکے] اتارنے کے عمل کو مقامی زبان میں ’خراف‘ کہا جاتا ہے۔

الاحساء کے کسان گرمیوں کے دنوں میں علی الصباح کھجور کے باغات کا رخ کرتے ہیں جہاں وہ سورج کی تپش بڑھنے سے پہلے ہی کھجوریں اتار کر گھروں کو لوٹ آتے ہیں۔

تازہ نمی سے بھرپور [رطب] کھجوروں [المعروف ڈوکے] اتارنے کے عمل کو مقامی زبان میں ’خراف‘ کہا جاتا ہے۔
تازہ نمی سے بھرپور [رطب] کھجوروں [المعروف ڈوکے] اتارنے کے عمل کو مقامی زبان میں ’خراف‘ کہا جاتا ہے۔

کھجوریں اتارنے کے لیے کئی آلات استعمال کیے جاتے ہیں جن میں زیادہ تر پرانے اور روایتی ہیں۔ کھجور پر چڑھنے کے لیے کسان ایک رسی کا استعمال کرتے ہیں جسے ‘الکر‘ کہا جاتا ہے۔ کھجور پر چڑھنے والا کسان اپنی بغل میں ایک ٹوکری بھی ساتھ لے جاتا ہے۔ عام طور پر یہ ٹوکری کھجور ہی کی چھال سے تیار کی جاتی ہے۔ اسے ’الزبیل‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقے الاحساء میں کھجوروں کا وسیع وعریض باغ ہے جو کھجوروں کا جنگل بھی کہلاتا ہے۔ اس سیزن میں الاحساء کے بوڑھے اور جوان سب اپنے کھجوروں کے باغات کا رخ کرتے اور کھجوروں کے درختوں سے تازہ کھجوریں اتارتے اور اگلے مرحلے میں انہیں مارکیٹ میں فروخت کرتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کی ٹیم نے الاحسا میں کھجوریں اتارنے کے عمل کے کچھ مناظر محفوظ کیے اور ایک مقامی کسان جعفر الجبران اور اس کے پڑوسی باقر المسلم سے ملاقات کی۔ جعفر الجبران چالیس سال سے تازہ کھجوریں اتارنے کا کام کرتے ہیں۔

الاحساء کے کسان جعفر الجبران
الاحساء کے کسان جعفر الجبران

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے الجبران نے کہا کہ چونکہ کھجوریں اتارنے کا موسم گرمیوں میں آتا ہے، اس لیے ہم سورج کی حدت سے بچنے کےلیے نماز فجر کے فوری بعد کھجوروں کی طرف روانہ ہوجاتےہیں۔ اس نے بتایا کہ کھجوریں اتارنے کا سیزن چار ماہ پر محیط ہوتا ہے۔ سب سے پہلے کھجوروں کو تازہ حالت میں اتارا جاتا ہے۔ انہیں ’الطیار‘ کا نام دیا جاتا ہے جب کی آخری مرحلہ الخصاب کا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الاحسا میں لوگ کھجوریں اتارنے کے لیے مل جل کر کام کرتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں الجبران کا کہنا تھا کہ الخراف کے عمل یعنی کھجوروں کو تازہ حالت میں اتارنے کے لیے کسان کھجور ہی کے چھلوں سے بنی ایک ٹوکری اور ایک رسی کا استعمال کرتے ہیں۔ رسی کی مدد سے وہ کھجور کی چوٹی پر پھل تک پہنچتے ہیں جبکہ اپنے ساتھ لائی ٹوکری میں وہ پھل اتارکر رکھتے ہیں۔ یہ دونوں آلات بہت ہلکے ہوتےہیں اور کسانوں کوانہیں اٹھانے اور کھجور کی چوٹی تک پہنچانے میں کوئی دقت پیش نہیں آتی۔

ایک دوسرے کاشت کار باقر المسلم نے کہا کہ تازہ کھجوروں کی کئی اقسام ہیں۔ ان میں الغر، ام جنازہ، الطیار، الخنیزی، الشیشی، الخلاص، الزاملی، النتاجیب، ام الرحیم، البرجی اور الخصاب شامل ہیں۔ الخصاب زیادہ خالص اور الزاملی تازہ کھجوروں میں نایاب کھجور کہلاتی ہے۔

کھجوریں اتارنے کے بعد انہیں مختلف حجم کے کریٹس میں پیک کیا جاتا ہے، جنہیں بعد ازاں بازار میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔