.
کرونا وائرس

برطانیہ میں طلبہ کی چالاکی؛کووِڈٹیسٹ کےجعلی مثبت نتیجہ کے لیےاورنج جوس کااستعمال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی طرح برطانیہ میں بھی طلبہ چالاک ہوگئے ہیں اور انھوں نے اسکول میں حاضری سے بچنےکے لیے کووِڈ-19 کے ٹیسٹ کا جعلی نتیجہ لینے کی غرض سے اورنج جوس کا استعمال شروع کردیا ہے۔اس طرح وہ اسکول سے دو ہفتے کی چھٹی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

برطانوی اخبار گارڈین کی ایک رپورٹ کے مطابق اسکول کے طلبہ نے چھٹی لینے کے لیے ایک منفرد تجربہ کیا ہے۔ اس میں کووِڈ کا مائع ٹیسٹ استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کا نتیجہ وائرس سے متاثرہ جوس نہیں ہوتا بلکہ بظاہر اس کا تعلق اس کی تیزابیت سے ہے جو بنیادی طورپر ٹیسٹ کی اصلیت ختم کردیتی ہے۔

اس طرح کا ٹیسٹ عام طور پرازخود کیا جاتا ہے اور یہ 30منٹ کے بعد اپنے نتائج ظاہرکردیتا ہے۔اس میں سلاخ پر روئی کا استعمال کرتے ہوئے مُنھ اورناک کے اندر سے ایک نمونہ لیا جاتا ہے۔اس کو مائع میں شامل کیا جاتا ہے اور پھر اس مائع کو ٹیسٹ پٹی پر نچوڑدیاجاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگرکیچپ اور کوکا کولا سمیت دیگر غذاؤں اورمشروبات کا استعمال کیا جائے تو کووِڈ کے ٹیسٹ کی صورت میں مبیّنہ طور پر یہی مثبت نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔

برطانیہ کے ایک سائنس ٹیچر نے بتایا کہ ’’طلبہ کے بہ قول اسکول سے دو ہفتے کی چھٹی حاصل کرنے کا یہ ایک بہترین طریقہ ہے۔‘‘

دی گارڈین کے مطابق اس جعلی تجربے کی ویڈیوز ٹک ٹاک ایپ پر وائرل ہوگئی تھیں۔ ان میں صارفین کو مختلف مائعات کی جانچ کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا تھا۔ #fakecovidtest کے تحت سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کی گئی ویڈیوز کو 65 لاکھ سے زیادہ صارفین دیکھ چکے تھے۔

العربیہ کو تصدیق کرنے پر پتا چلا ہے کہ ٹک ٹاک نے اس ہیش ٹیگ کے تحت اپ لوڈ کی گئی تمام ویڈیوز کواب ہٹا دیا ہے۔ٹک ٹاک کے سرچ والے صفحہ پر اب یہ لکھاہے کہ ’’یہ جملہ (ہیش ٹیگ) ایسے طرزعمل یا مواد سے متعلق ہوسکتا ہے جو ہماری رہ نما ہدایات کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق برمنگھم یونیورسٹی میں بائیو شماریات کے پروفیسرجان ڈیکس نے اس طرزِعمل کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ’’جھوٹی مثبت چیزیں نہ صرف بچّوں بلکہ ان کے خاندان اور اسکول کو بھی متاثر کرتی ہیں، لہٰذا یہ ایک بہت خودغرضانہ کام ہے۔اسکول سے ایک دن کی جعلی چھٹی لینے کے اور بھی کم نقصان دہ طریقے ہوسکتے ہیں۔‘‘

برطانیہ میں اسکول اورکالج لیڈروں کی تنظیم کے جنرل سیکرٹری جیف بارٹن نے والدین پرزور دیا ہے کہ وہ کووِڈ-19 کے ٹیسٹوں کے مناسب اور درست استعمال کو یقینی بنائیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’کسی کیمیائی ردعمل کے بارے میں مزید جاننے میں دلچسپی کے خواہاں طلبہ کے لیے بہترین جگہ تواسکول ہی میں ہے۔‘‘