.

یوکرائن: اونچی ایڑی پہن کر فوجی پریڈ کرنے والی خواتین پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرائن میں فوجی خواتین کو روایتی یونیفارم میں فوجی جوتوں کے بجائے ہائی ہیل جوتوں کے ساتھ پریڈ میں شرکت کے فیصلے پر حکومت پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔

سوویت یونین کے خاتمے کی 30 سالگرہ کی تیاریاں عروج پر ہیں۔ جمعرات کے روز یوکرائن وزارت دفاع نے حال ہی میں چند تصاویر جاری کی ہیں جس میں خواتین فوجیوں درمیانی ہیل والی سیاہ پمپی جوتیاں پہنے پریڈ میں شریک دکھایا گیا ہے۔

زیر تربیت خاتون کیڈٹ ایوانا میڈیڈ کے حوالے سے وزارت دفاع کی ویب سائٹ پر شائع رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’’آج پہلی بار اونچی ایڑھی والے جوتوں میں پریڈ ہو رہی ہے۔‘‘ میڈیڈ کے بقول عام فوجی جوتوں کے مقابلے میں ایڑی والی پمپی جوتوں میں پریڈ کرنا مشکل ہے، تاہم ہم کوشش کر رہی ہیں۔

پارلیمنٹ کے فلور پر بھی فوجی جوتوں کی جگہ اونچی ایڑھی والے جوتوں کو خواتین کی فوجی یونیفارم کا حصہ بنانے بہت لے دے ہو رہی ہے۔ بعض ارکان کی جانب سے الزام عاید کیا گیا ہے کہ فوجی خواتین کو جنسی ترغیت کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، جس کی جنتی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔

ایک تبصرہ نگار ویٹالے پورٹیکوو نے سوشل میڈیا پر رائے دیتے ہوئے کہا کہ ’’اونچی ایڑھی والے جوتوں کے ساتھ خواتین کی پریڈ میں شرکت توہین آمیز بات ہے۔‘‘

اونچی ایڑھی والی جوتیوں میں خواتین کی پریڈ دراصل بیوٹی انڈسٹری کی خواتین کے حوالے سے تضحیک آمیز روش کا اظہار ہے۔ یاد رہے کہ سابق یوکرینی صدر پیٹرو پورشینکو کے حامی پارلیمنٹرینز نے وزیر دفاع کی جانب سے خواتین یونیفارم میں اونچی ایڑھی پمپی جوتی شامل کرنے پر تحسین کی ہے۔

تاہم گولس پارٹی سے تعلق رکھنے والی ایک رکن انا سوسن کے بقول ’’اس سے زیادہ احمقانہ اور نقصان دہ آئیڈیا کوئی اور نہیں ہو سکتا۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ ’’خواتین فوجی بھی مردوں کی طرح اپنی زندگی کو خطرات میں ڈال کر ملکی دفاع کرتی ہیں، ان کا اس طرح مذاق نہیں اڑایا جانا چاہے۔‘‘