.

سعودی عرب 74 ویں کان فلمی میلے میں اپنی ’سافٹ پاور‘ کے جوہر دکھانے کے لیے تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کرونا وائرس کے جلو میں فرانس کے ساحلی شہر کان میں فلمی دنیا کے سب سے بڑے میلے 'کان فلم فیسٹیول' کا آغاز آج بروز منگل سے ہو گا۔

اس مرتبہ سعودی عرب بھی بارہ روزہ فلمی میلے میں اپنا پویلین الگ لگا رہا ہے۔ سعودی پویلین میں فلمی صنعت سے تعلق رکھنے والے نجی اور سرکاری شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیاں شرکت کریں گی۔ میلے میں فلم کونسل، وزارت سرمایہ کاری، رائل کمیشن برائے العلاء، ریڈ سی انٹرنیشنل فلم فیسٹیول، ایم بی سی گروپ، اثراء، دی نیوم کمپنیی اور دیگر نمایاں نام ہیں۔

کان فلمی میلے میں ریڈ کارپٹ کا افتتاح
کان فلمی میلے میں ریڈ کارپٹ کا افتتاح

فرانس میں کرونا کے ڈیلٹا ویرینٹ کے پھیلاؤ کے خوف سے 'کان فلم فیسٹیول' کے منتظمین اور حکام ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے کرونا ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کر رہے ہیں۔

کان فلم فیسٹیول کا یہ 74 واں رنگا رنگ ایونٹ چھ سے 17 جولائی تک جاری رہے گا۔ بارہ روزہ فیسٹیول میں فلموں کی نمائش، پریس کانفرنسز اور لیٹ نائٹ پارٹیز ہوں گی اور ستارے ریڈ کارپٹ پر جلوے بکھیریں گے۔

کان فلم فیسٹیول کا انعقاد عموماً مئی میں ہوتا ہے لیکن رواں سال یہ جولائی میں ہو رہا ہے۔ گزشتہ برس کرونا وبا کے باعث اس ایونٹ کو منسوخ کر دیا گیا تھا۔

فلمی میلے کی تیاری کے لیے کارکن پوسٹر لگا رہے ہیں
فلمی میلے کی تیاری کے لیے کارکن پوسٹر لگا رہے ہیں

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق منگل کو کان فلم فیسٹیول کا آغاز فرانسیسی ہدایت کار لیوز کاریکس کی میوزیکل فلم 'انیٹ' سے ہو گا۔ فیسٹیول میں 24 فلموں کے درمیان مقابلہ ہے۔

فیسٹیول میں حال ہی میں ریلیز ہونے والی ہالی وڈ فلم 'فاسٹ اینڈ فیورس 9'، ڈرامہ اور تھرل سے بھرپور فلم 'اسٹک واٹر' اور کامیڈی ڈرامہ فلم 'دی فرینچ ڈس پیچ' سمیت کئی فلمیں نمائش کے لیے پیش کی جائیں گی۔

رواں برس ایونٹ کو یادگار بنانے والے آسکر ایوارڈ کے فاتحین کا تعلق صرف امریکہ اور برطانیہ سے نہیں بلکہ دیگر ممالک سے بھی تھا۔ رواں برس کان فلم فیسٹیول کی جیوری میں پانچ خواتین اور چار مردوں کو شامل کیا گیا ہے۔

فیسٹیول کی جیوری کے سربراہ امریکی ہدایت کار اسپائک لی ہیں جب کہ جیوری کے دیگر ممبران میں فرانسیسی اداکار طاہر رحیم، امریکی اداکارہ میگی جِلن ہول، آسکر ایوارڈ یافتہ فلم 'پیرا سائٹ' کے اداکار سونگ کانگ ہو، آسٹریلوی ہدایت کارہ جیسیکا ہوسنر، فرانسیسی اداکارہ میلانی لورنٹ، ہدایت کار کلیبر مینڈونسا فلو، فرانسیسی اداکارہ ماٹی ڈیاپ اور گلوکارہ مائلین فارمر شامل ہیں۔

سعودی پویلین
سعودی پویلین

دوسری جانب کان شہر کے میئر ڈیوڈ لسنارڈ نے فلم فیسٹیول میں کرونا وبا کے پھیلاؤ کے خدشات کو رد کیا ہے۔ ان کے بقول "ایسی کوئی صورتِ حال نہیں جس میں کوئی رسک نہ ہو۔ لیکن کان فیسٹیول میں آ کر فلم دیکھنا کسی سپر مارکیٹ میں خریداری کرنے سے زیادہ محفوظ ہے۔"

فلم فیسٹیول میں شرکت کرنے والوں کو کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے سخت احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ہوں گی۔ شرکا کے لیے انتظامیہ کو ہیلتھ پاس دکھانا ضروری ہے۔

فیسٹیول کے ڈائریکٹر تھیری فریمو نے صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا ہے کہ فلم اسٹارز کو بھی سخت چیکنگ کا سامنا کرنا ہوگا۔ ان کے بقول سب سے بہترین فلم کے ایوارڈ 'پام ڈور' کے جیوری ممبر اور برازیلین ہدایت کار کلیبر مینڈونکا فیلو نے بھی کان فلم فیسٹیول میں شرکت کے لیے فرانس میں دو ہفتوں کا قرنطینہ مکمل کیا تھا۔

رواں برس کان فلم فیسٹیول میں شرکا کی تعداد بھی کم رکھی گئی ہے۔ عام طور پر اس فیسٹیول میں 35 سے 40 ہزار افراد شرکت کرتے ہیں لیکن اس سال صرف 28 ہزار کے لگ بھگ افراد شریک ہو سکیں گے۔

سعودی پویلین
سعودی پویلین

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں کئی ماہ سے تھیٹر بند ہیں اور کرونا بحران کی وجہ سے فلموں کی پروڈکشنز اور پریمیئرز بھی منسوخ ہو رہے ہیں، کچھ افراد کے خیال میں کان فلم فیسٹیول کا انعقاد یہ پیغام دے رہا ہے کہ فلمیں واپس آ گئی ہیں۔

امریکی ڈیجیٹل اور پرنٹ میگزین 'دی ہالی وڈ رپورٹر' کے صحافی اسکوٹ راکس برو کا کہنا ہے کہ اس فیسٹیول سے متعلق تمام لوگ یہی امید کر رہے ہیں کہ یہ پوری فلم انڈسٹری کی واپسی ہے۔