.

سفر حج کے پہلے قافلے کیسے ہوا کرتے تھے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں ’اللوری‘ (لاری) کے نام سے حجاج کے لیے بس چلتی تھی۔ مملکت کے دیگر شہروں کی طرح مکہ مکرمہ، منی، مزدلفہ اور عرفات میں بھی حج ٹرانسپورٹ نے ترقی کا سفر بتدریج طے کیا ہے۔

بسوں کی جنرل سنڈیکیٹ کا کہنا ہے کہ گزشتہ عشروں کے دوران حج موسم میں ٹرانسپورٹ سیکٹر نے بدتریج ترقی کی ہے۔

قدیم زمانے میں حج کا سفر مشقت کا ہوتا تھا۔ عازم حج کو اپنی بستی سے مقدس مقامات تک پہنچنے میں مہینوں لگتے تھے۔

بسوں کی جنرل سنڈیکیٹ کا کہنا ہے کہ سعودی ریاست کے قیام کے بعد ٹرانسپورٹ کے نئے وسائل حاجیوں کے سفر کے لیے متعارف ہوئے۔ 1924 میں سفر حج کے لیے اونٹوں کی جگہ گاڑیوں نے لی۔

قدیم زمانے میں زائرین کو اونٹوں سے حج مقامات پر لانے لے جانے کا کام لیا جاتا تھا جو لوگ یہ انتظام کرتے تھے وہ المخرجون اور المقومون کہلاتے تھے۔ المخرجون سامان چڑھانے، اتارنے اور حاجیوں کو اونٹوں پر بٹھانے، اتارنے کا کام کیا کرتے تھے۔ ان کا دائرہ کار مکہ تک محدود ہوتا تھا۔

ایک اور گروپ ہوتا تھا جو المقومون کہلاتا تھا۔ اس کی ذمے داری حاجیوں کو حج مقامات آنے جانے کے لیے سواری مہیا کرنے کی ہوتی تھی۔ یہ لوگ حاجیوں کے ساتھ جدہ اور مدینہ بھی جایا کرتے تھے۔ یہ نظام 1945 میں ختم ہو گیا۔

سعودی عرب نے پہلی بار 1948 میں بسوں کی جنرل سنڈیکیٹ قائم کی۔ چار برس تک اس کا سلسلہ جاری رہا پھر مارچ 1953 میں شاہ عبدالعزیز نے بسوں کی جنرل سنڈیکیٹ ٹو کے قیام کا فرمان جاری کیا۔ اس کا انتظام ریڈیو اور حج ادارے کو دیا گیا۔ اس کی نگرانی وزارت حج و عمرہ کو دی گئی۔

بسوں کی جنرل سنڈیکیٹ حج ٹرانسپورٹ پلان کے نفاذ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

سنڈیکیٹ حاجیوں کے ٹرانسپورٹ کے لیے انواع و اقسام کی بسوں کا انتظام کرتی ہے۔ شروعات لاری سے کی گئی تھی جس سے سامان منتقل کیا جاتا تھا پھر سکول بسوں سے کام لیا جانے لگا۔ بیسویں صدی کے اواخر میں جدید طرز کی بسیں استعمال ہونے لگیں۔

سنڈیکیٹ نے حج ٹرانسپورٹ میں سرمایہ کاری کے دروازے کھولے۔ اس سال 68 ٹرانسپورٹ کمپنیاں اور ادارے حج ٹرانسپورٹ میں حصہ لے رہے ہیں۔ بیس ہزار بسیں سنڈیکیٹ کے پاس ہیں۔ سنڈیکیٹ نے نہ صرف یہ کہ جدید طرز کی بسوں کا اہتمام کیا ہے حج ٹرانسپورٹ نے ای سسٹم کا عمل دخل بھی بڑھا دیا ہے۔