.

وڈیو : لیبیا میں بچھّو کی ڈسی ہوئی بچی زندگی اور موت کی کشمکش میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں ایک بچی کی درد ناک وڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں وہ جنوبی شہر اوباری کے ایک ہسپتال میں زندگی اور موت کے درمیان کشمکش میں نظر آ رہی ہے۔ بچی کو ایک زہریلے بچھو نے ڈنک مار دیا تھا جب کہ ہسپتال میں زہریلے اثرات کو زائل کرنے والی ویکسین نہ ہونے کے سبب طبی عملہ بچی کی جان بچانے سے قاصر رہا۔

یہ منظر لیبیا کے جنوبی علاقے میں اکثر و بیشتر دیکھنے میں آتا ہے جہاں بالخصوص سال کے اس عرصے میں بچھؤوں اور سانپوں کے ڈنک مارنے اور ڈسنے کے واقعات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ درجہ حرارت میں اضافہ ہے جس کے نتیجے میں کیڑے نمی کی تلاش میں اپنے بلوں سے باہر نکل آتے ہیں۔

بچھؤوں کے زہر کا اثر ختم کرنے والی ادویہ کی عدم دستیابی کے سبب بالخصوص بچوں اور عمر رسیدہ افراد میں ڈنک سے اموات ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔

مذکورہ علاقے میں ایک نجی کلینک کی مالکہ خدیجہ عندیدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے پاس روزانہ اوسطا 6 سے 7 اور کبھی اس سے بھی زیادہ کیس آتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس صورت حال کی وجہ بلدیاتی کونسل اور ماحولیاتی ادارے کی جانب سے اس مسئلے کی بنیاد کا علاج کرنے میں کردار ادا نہ کرنا ہے۔ اس حوالے سے مطلوبہ اسپرے کا چھڑکاؤ نہیں کیا جا رہا اور نہ کچرے کے ڈھیر ختم کیے جا رہے ہیں۔

لیبیا کے جنوب میں وادی الآجال کے علاقوں اور دیہات کو بچھؤوں کے ڈسنے کا گڑھ شمار کیا جاتا ہے۔ رواں سال اپریل سے جوان کے درمیان بچھو کے کاٹے جانے کے 393 کیسوں کا اندراج ہوا۔ ان میں سے 14 متاثرین متعلقہ ویکسین نہ ہونے کے سبب جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔