.

سعودی وزیر صحت کا حجاج کی صحت کے حوالے سے اظہار اطمینان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وزیر صحت ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے حجاج کرام کی صحت کے حوالے سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حجاج کرام میں کرونا کا کوئی کیسز سامنے نہیں آیا ہے۔

العربیہ چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر الربیعہ نے کہا کہ مملکت حجاج کی حفاظت کے لیے سماجی فاصلے کو نافذ کرنے کے خواہاں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحت کے حوالے سے تمام حجاج کرام مطمئن ہیں اور تمام حاجیوں کی صحت تسلی بخش ہے۔

ڈاکٹر الربیعہ نے مزید کہا کہ مکہ مکرمہ اور المشاعر میں 15 اسپتال ہیں جو حجاج کی صحت کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے چوبیس گھنٹے کھلے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کرونا ویکسین لگوانا حجاج کے انتخاب کے لیے بنیادی شرط ہے۔ان کا ملک وبائی امراض سے نمٹنے میں طویل تجربہ رکھتا ہے۔

قبل ازیں سعودی عرب کی وزارت صحت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام حجاج کرام کرونا وبا سے محفوظ ہیں اور حجاج میں کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔

وزارت صحت کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حجاج کرام کو فیلڈ میں طبی سہولیات فراہم کرنے کے لیے میڈیکل ٹیمیں مختص ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ حجاج کرام کو کرونا وبا سے بچانے کے لیے غیر معمولی اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ حجاج کرام میں مناسک حج کے اختتام کرونا کے اثرات اور علامات کی جان کاری کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

ادھرحج کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل برائے سیکیورٹی امور میجر جنرل خالد بن قرار الحربی مناسک حج کے لیے صرف ان عازمین کو اجازت دی گئی ہے جو ویکسین لگوا چکے ہیں۔

خیال رہے کہ اس بار سعودی عرب کے مقامی شہری اور مملکت میں مقیم دوسرے ملکوں کے 60 مسلمان فریضہ حج ادا کر رہے ہیں۔ سنہ 2019ء میں 25 لاکھ مسلمانوں نے فریضہ حج ادا کیا تھا۔ ان میں مملکت کے اندر سے 5 لاکھ 58 ہزار حجاج شامل ہوئے تھے۔