.

سعودی عرب کے6 تاریخی مقامات جنہیں یونیسکو نے عالمی ورثے میں شامل کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے قومی ثقافتی ورثے کی حفاظت کے ذمہ دار اداروں کی کوششوں سے مملکت میں موجود اہم تاریخی مقامات بین الاقوامی ثقافتی ورثے کے طورپر تسلیم کیے جانے لگے ہیں۔

اس سلسلے میں تازہ پیش رفت سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں موجود چھ تاریخی مقامات کو اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت ’یونیسکو‘ نے تاریخی ورثے کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ یہ تاریخی اور ثقافتی مقامات سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز ہیں اور اپنی سیاحتی اور ثقافتی اہمیت تسلیم کرا چکےہیں۔

سعودی عرب میں جن مقامات کو یونیسکو کے تاریخی ورثے میں شامل کیا گیا ہے ان میں مدینہ منورہ کے علاقے العلا گورنری میں واقع مدینہ الحجر شامل ہے۔ سنہ 2008ء میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے سائنس وثقافت نے مدائن صالح کو تاریخی ورثے میں شامل کیا تھا۔مدائن صالح سعودی عرب میں پہلا مقام ہے جسے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا۔

الدرعیہ میں واقع الطریف کالونی کو سنہ 2010ء کو یونیسکو کے ثقافتی ورثے میں شامل کیا گیا۔ الطریف کالونی کی بنیاد پندرہویں صدی میں رکھی گئی۔ جزیرۃ العرب میں یہ کالونی نجدی آثار قدیمہ اور فن تعمیر کے نمونوں سے بھرپور ہے۔

سنہ 2014ء کو جدہ شہر کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے کا حصہ قرار دیا۔ جدہ شہر کا شمار قدیم شہروں میں ہوتا ہے جن کی تاریخ قبل از اسلام کے دور تک پھیلی ہوئی ہے۔ ظہور اسلام کے آغاز کےبعد یہ شہر اور بھی اہمیت اختیار کرگیا جب کہ تیسرے خلیفہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے مکہ مکرمہ بندرگاہ کے لیے جدہ ہی کا انتخاب کیا تھا۔

سعودی عرب کےجن چھ تاریخی مقامات کو یونیسکو کے تاریخی ورثے میں شامل کیا گیا ہے ان میں حائل گورنری میں واقع جبہ وراطا اور المنجور بھی شامل ہیں۔ ان کی تاریخ دس ہزار سال پر محیط ہے۔ بعض آثار دس ہزار سال قبل مسیح ہیں۔ یہ مقام پتھر کی چٹانوں پر نقش کاری پر مشتمل ہے۔ سنہ 2015ء کو یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا تھا۔

سعودی عرب میں اعلی معیار کی کھجوروں کے دنیا کے سب سے بڑے باغ جس میں کھجوروں کی تعداد تین ملین سے زیادہ ہے۔ سنہ 2018ءکو یونیسکو نے اسے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کیا۔

یونیسکو نے حال ہی میں سعودی عرب کے علاقے نجران میں موجود ’حمیٰ کے کنوئیں‘ بھی عالمی ثقافتی ورثے میں شامل ہیں۔ ان کنوؤں کی تعداد چھ ہے جو پہاڑوں اور چٹانوں کے بیچ بنائے گئے ہیں۔ کسی دور میں جزیرۃ العرب کے جنوب میں یہ تجارتی قافلوں کی گذرگاہ ہوا کرتی تھی۔ یہاں پر موجود چٹانوں اور پتھروں پر نقوش اور تاریخی عبارتیں کندہ ہیں۔ یہاں پر تاریخی مقامات کی تعداد 13 ہے۔