.

ٹوکیواولمپکس:ایرانی کارکنان نے پاسداران کے فاتح شوٹرکا طلائی تمغا’تباہی‘قراردے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب کے ایک رکن نے ہفتے کے روز ٹوکیواولمپکس میں ملک کا پہلا طلائی تمغا جیتا تھا۔ان کی فتح اس پرایرانیوں نے ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ایرانی کارکنوں اور کھلاڑیوں کے ایک گروپ نے ان کی فتح کو’’تباہی‘‘قراردیا ہے۔

اکتالیس سالہ جواد فروغی ٹوکیواولمپکس میں مردوں کے 10 میٹرایئرپستول مقابلے میں فاتح رہے تھے۔فروغی نے فائنل میں ریکارڈ 244.8 کے ساتھ سونے کا تمغا جیتا تھا اوریہ شوٹنگ کے اس مقابلے میں ایک ریکارڈ ہے۔اولمپکس میں ایران کا شوٹنگ میں بھی یہ پہلا گولڈ میڈل تھا۔

امریکا میں مقیم ایرانی صحافی اور کارکن مسیح علی نجاد کی قیادت میں ایرانی کارکنوں اور کھلاڑیوں کے ایک گروپ ’یونائیٹڈ فارنوید‘ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’جواد فروغی کی جیت نہ صرف ایرانی کھیلوں بلکہ عالمی برادری اور خاص طور پر بین الاقوامی اولمپک کمیٹی (آئی او سی) کی ساکھ کے لیے بھی تباہی کی مظہر ہے۔‘‘


اس گروپ کا نام ایرانی پہلوان نوید افکاری کے نام پر رکھا گیا ہے۔انھیں ایران میں 2020 میں پھانسی دے دی گئی تھی۔افکاری کی پھانسی کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی تھی اور مذمت کرنے والوں میں امریکا اور یورپی یونین بھی شامل تھے۔

ایران نے نویدافکاری پر 2018ء میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران میں ایک سیکورٹی گارڈ کو قتل کرنے کا الزام عاید کیا تھامگر مصلوب پہلوان اور ان کے خاندان نے اس الزام کومسترد کردیا تھا۔انھوں نے کہا تھا کہ انھیں تشدد کے ذریعے اقبالِ جرم پر مجبورکیا گیا تھا۔

گروپ کے بیان میں سپاہِ پاسداران انقلاب کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’فروغی ایک دہشت گرد تنظیم کا موجودہ اور دیرینہ رکن ہے۔‘‘ واضح رہے کہ امریکا نے سپاہ پاسداران انقلاب ایران کو 2019 ءمیں غیرملکی دہشت گرد تنظیم کے طور پربلیک لسٹ کردیا تھا۔

یونائیٹڈ فارنوید نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’پاسداران انقلاب کی نہ صرف ایران میں عوام اور مظاہرین بلکہ شام، عراق اور لبنان میں بے گناہ لوگوں پر تشدد اور قتل وغارت گری کی ایک تاریخ ہے۔‘‘"

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق جواد فروغی تہران میں پاسداران انقلاب کی ملکیت بقیت اللہ اسپتال میں نرس کے طور پرملازم ہیں ۔انھوں نے اسی اسپتال کے تہ خانے میں فائرنگ کی مشق کی تھی۔

فروغی نے اپنا تمغا اہل تشیع کے 12 اماموں میں سے ایک امام مہدی اور ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے نام معنون کیا ہے۔انھوں نے اپنی جیت کے بعد ایران کی نیم سرکاری خبررساں ایجنسی تسنیم کو بتایا کہ انھیں 2012-2013 میں شام بھیجا گیا تھا اور وہ وہاں پاسداران انقلاب کی طبی ٹیم کے ساتھ دو سال تک خدمات انجام دیتے رہے تھے۔

یونائیٹڈ فارنوید نے کہا کہ اس نے رواں سال کے اوائل میں آئی او سی کو ایک خط میں ایرانی دستے میں فوجیوں اور یہاں تک کہ ایتھلیٹک نمائندوں کے طور پر خدمات انجام دینے والے سیاستدانوں کی ممکنہ موجودگی کے بارے میں خبردارکیا تھا مگر اس کے باوجودآئی او سی کے عہدے داروں نے ایران کے خلاف کبھی کوئی کارروائی نہیں کی۔یونائیٹڈ فارنوید نے آئی او سی سے پاسداران کے رکن کے طلائی تمغا کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک تحقیقات مکمل نہیں ہوجاتی،اس وقت تک ایوارڈ کیے گئے تمغے کو معطل کردیا جائے۔