.

سعودی عرب: جسمانی طور پر جڑے یمنی بچوں کی 8 گھنٹے طویل سرجری جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز کی ہدایت پر شاہ عبد العزیز میڈیکل کمپلیکس میں یمنی بچی کے اضافی اعضا الگ کرنے کا آپریشن شروع ہو گیا ہے۔ طب کی اصطلاح میں ایسی بچی کے کیس کو ’طفیلی جڑواں بچے‘ کا نام دیا جاتا ہے۔

شاہی فرمان کے تحت جسمانی طور پر جڑے یمنی بچوں عائشہ احمد اور سعید محیمود کو علاج کے لیے تمام ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔



شاہ سلمان سینٹر برائے انسانی امداد کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ بن عبدالعزیز الربیعہ نے کہا ہے کہ ’طفیلی جڑواں بچی کے اضافی اعضا الگ کرنے کا آپریشن انتہائی پیچیدہ ہے۔ سرجری میں ساڑھے آٹھ گھنٹے لگ سکتے ہیں۔ آپریشن 8 مراحل میں مکمل ہو گا جس میں 25 ماہرین حصہ لیں گے۔‘

انہوں نے کہا ہے کہ ’جسمانی طور پر جڑے بچوں میں ایک بچی اور ایک بچہ ہے جن کے دھڑ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے تاہم بچہ پورا نہیں ہے، اس کی صرف ٹانگیں ہیں۔ دونوں کا پیشاب اور تناسلی نظام بھی ایک دوسرے کے ساتھ مشترک ہے‘۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں تین عشروں کے دوران اس نوعیت کے 50 کیسز کا آپریشن کیا گیا جس میں تین بر اعظموں کے 22 ممالک سے تعلق رکھنے والے 117 سیامی بچوں کی سرجری کی گئی۔