.
کرونا وائرس

کووِڈ-19 کی ویکسینیں ڈیلٹا شکل کے مقابلے میں تنہا مؤثرنہیں:نئی تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئی تحقیق کے مطابق کووِڈ-19 کی ویکسینیں اتنی طاقتور اور مؤثرنہیں کہ وہ وائرس کی نئی اور زیادہ متعدی اقسام کو ظہورپذیر ہونے سے روک سکیں۔لہٰذا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر پرعمل کرنا ضروری ہے۔

یہ تحقیق آسٹریا کے انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے محققین نے کی ہے اور یہ جریدے ’نیچر سائنٹیفک رپورٹس‘ میں شائع ہوئی ہے۔اس تحقیق سے پتاچلا ہے کہ کروناوائرس کی نئی اقسام کے خطرے کو کم کرنے کے لیے ویکسی نیشن کے ساتھ ساتھ سماجی فاصلہ اختیار کرنے اور ماسک پہننے جیسی احتیاطی تدابیر پرعمل کرنا ضروری ہے۔

اس مطالعے میں وائرس کی گذشتہ ایک سال کے دوران میں سامنے آنے والی نئی شکلوں کے پیش نظر کہا گیا ہے کہ تبدیل شدہ نئی اقسام سامنے آتی رہیں گی لیکن مطالعہ سے پتاچلا ہے کہ اگر زیادہ سے زیادہ لوگ احتیاطی تدابیر اور قوانین پرعمل پیرا ہوں اور دنیا میں ویکسین کے انجیکشن لگانے کا سلسلہ جاری رہتا ہے تو بالآخر وائرس کی نئی شکلیں ظہورپذیر ہونا بند ہوجائیں گی۔

اس میں بتایا گیا ہے کہ تیزرفتارشرح سے ویکسین لگائی جائے تومزاحمتی تناؤ کی ہنگامی صورتحال کے امکان کو کم کیا جاسکتا ہے۔اس کے برعکس، اگر دوا دینے یاویکسین لگانے میں نرمی برتی جائے تو ایسے وقت میں جب آبادی کے زیادہ تر افراد کو پہلے ہی ویکسین لگائی جاچکی ہے تو کسی مزاحمتی تناؤ (ویکسین کی نئی شکل) کے ظہورکے امکان میں بہت اضافہ ہوسکتا ہے۔

محققین نے کا کہنا ہے کہ ’’پالیسی سازوں اورافراد کو ویکسین لگانے کے پورے عرصے میں غیرادویہ کی مداخلتوں اور وائرس کی منتقلی میں کمی کا سبب بننے والے رویوں کو برقراررکھنے پر غورکرنا چاہیے۔‘‘

امریکا کے مرکز برائے انسداد امراض اور بچاؤ(سی ڈی سی) نے حال ہی میں ایک اندرونی رپورٹ جاری کی ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ڈیلٹا شکل اصل وائرس سے کہیں زیادہ تیزی سے پھیلتی ہے اور یہ شدید بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔مذکورہ تحقیق سے بھی اس تجزیے کی تائید ہوئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ کووِڈ-19 کے خلاف مکمل ویکسین لگوانے والے افراد میں ڈیلٹاشکل اتنی ہی آسانی سے منتقل ہوسکتی ہے جتنی آسانی سے ٹیکہ نہ لگوانے والے افراداس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ تاہم اس میں واضح کیا گیا ہے کہ ویکسین اب بھی لوگوں کو شدیدانفیکشن، اسپتال میں داخل ہونے یا موت سے بچانے میں مؤثر ہے۔

سی ڈی سی نے گذشتہ ہفتے امریکیوں کو مشورہ دیا تھا کہ ’’وہ اندرونی ماحول میں بھی حفاظتی ماسک پہنیں، یعنی ان علاقوں میں جہاں وائرس کی منتقلی کا خطرہ’زیادہ‘ یا’خاطرخواہ‘ہے،وہاں وہ ماسک پہن کررکھیں۔

اگرچہ بنیادی طورپرویکسین نہ لگوانے والے افراد کووڈ-19 کا شکارہورہے ہیں لیکن سی ڈی سی کا اندازہ ہے کہ امریکا میں ہر ہفتے ویکسین لگوانے والے 35ہزارافراد بھی اس وائرس سے متاثرہوسکتے ہیں۔