.

کیلے کے پتے کے 12 حیرت انگیز فواید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کیلے کے پتے کیلے کے درخت کے حصے کے طور پر جڑی بوٹی کے طبی خواص سے مالا مال تصور کیے جاتے ہیں۔ جدید طبی سائنسی تحقیق کے برعکس ماضی میں لوگ کیلے کے پتوں کو بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں۔ کیلے کے پتوں کوبہت سی ادویہ میں بھی استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ان پتوں کے انسانی صحت پر کسی قسم کے منفی اثرات مرتب نہیں ہوتے۔ اگرچہ اس میدان میں زیادہ سائنسی تحقیق نہیں کی گئی۔ مگر کچھ تحقیقات کیلے کے پتوں کے فوائد کی تائید کرتی ہیں۔ زیادہ تر فوائد اور استعمال ذاتی تجربات اور وراثت میں ملنے والی عادات پر مبنی ہوتے ہیں۔ پتوں کو بیماریوں کے علاج، کھانا پکانے میں استعمال کرنے اور مویشیوں کے چارے کے طورپر بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔

بولڈسکی ویب سائٹ نے کیلے کے پتوں سے متعلق ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ پتوں کے طبی استعمال سے قبل ڈاکٹر سے مشورہ کرلینا چاہیے۔ تاہم ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیلے کے پتے کیلے کے پھلوں کی طرح غذائیت بخش اور صحت افزا ہیں۔

ذیل میں کیلے کے پتوں کے فوید پیش کیے جا رہے ہیں۔

نزلہ اور زکام

ایک سائنسی مطالعے کے نتائج سے پتا چلتا ہے کہ کیلے کے پتوں میں طاقتور اینٹی آکسیڈینٹس ہوتے ہیں جس کے باعث انہیں نزلہ اور زکام کے علاج کے لیے ہربل ادویات کے طورپر استعمال کیا جاسکتا ہے۔

بخار روکنے میں معاون

ایک مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ کیلے کے پتوں کو بخار کے علاج کے لیے فائدہ مند سمجھا جاتا ہے۔ کیلے کے پتے میں موجود فائٹو کیمیکل بخار جیسی بیماریوں کو روکنے یا علاج کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ان میں پائے جانے والے اینٹی پیریٹک ، اینٹی مائکروبیل اور اینٹی انفیکشن اثرات کی وجہ یہ بخار کو روکنے میں مد دیتے ہیں۔ سے۔ کیلے کے پتے کو ابال کر اس کا پانی پینا صحت کےلیے مفید خیال جاتا ہے۔

زخم کی ڈریسنگ

ایک تحقیق کے مطابق کیلے کے پتے بہت سے ترقی پذیر ممالک میں ان کی انفرادیت ، ارزاں نرخوں اور آسانی سے دستیاب خصوصیات کی وجہ سے زخموں کی سستی اور موثر ڈریسنگ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کیلے کے پتے کی اینٹی مائکروبیل اور سوزش کی خصوصیات ویسلین ڈریسنگ کے برابر سمجھی جاتی ہیں۔ اس طرح زخم کو کم وقت میں علاج اور ٹھیک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

قوت مدافعت کی مضبوطی

ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کیلے کے پتوں میں لیکٹین نامی ایک پروٹین پایا جاتا ہے۔ لیکٹینز میں طاقتور امیونوومودولیٹری خصوصیات ہوتی ہیں جو جسم میں ’ٹی‘ سیلز کی تعداد بڑھانے میں مدد دیتی ہیں۔ ٹی سیلز مدافعتی خلیوں کا حصہ ہیں جو جسم میں پیتھوجینز کا پتہ لگانے اور ان کی شناخت میں مدد کرتے ہیں اور ’بی‘ سیلز کو ان سے لڑنے اور ختم کرنے کے لیے سگنل بھیجتے ہیں۔

چربی کے جماوٗمیں کمی

کیلے کے پتے بھارت میں ایک ٹاپیکل ٹریٹمنٹ کے طور پر استعمال ہوتے ہیں جو جسم میں سیلولائٹ کی سوزش کو کم کرتا ہے۔کیلے کے پتے چھلکے جلد پر لگائے جاتے ہیں جہاں سیلولائٹس موجود ہیں۔ پتوں میں موجود پولیفینول جلد کے خلیوں میں کولیسٹرول کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں جو سیلولائٹس کی نشوونما کے لیے ذمہ دار ہیں اور اس طرح اسے کم کرتے ہیں۔

بالوں کے مسائل کا علاج

کیلے کے پتے بالوں کے لیے ایک شاندار جزو کے طور پر کام کرتے ہیں اور اس کے کچھ مسائل جیسے خشکی اور سرمئی بالوں سے چھٹکارا پانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کچھ لوگوں کے ذاتی تجربات بتاتے ہیں کہ کیلے کے پتے کے پانی نکالنا اور انہیں گرینڈ کرکےاس پانی کو بالوں پر لگانے سے بالوں میں سفیدی کو کم اور انہیں مضبوط بنانے میں مدد دے سکتے ہیں۔

ذیابیطس

ایک تحقیق کے مطابق کیلے کے پتے اینٹی انفیکشن ور اینٹی آکسیڈینٹ روٹین کا ایک ممکنہ ذریعہ ہیں۔ روٹین کیلے کے پتے میں پایا جانے والا بنیادی فلیوونائڈ ، ذیابیطس کے مریضوں کو گلوکوز کی سطح کو کنٹرول کرنے اور متعلقہ پیچیدگیوں کے کسی بھی خطرے کو روکنے سے فائدہ پہنچاتا ہے۔ کیلے کے پتے مالٹوز کو توڑنے میں بھی مدد کرتے ہیں جو کہ ایک قسم کی شوگر ہے جس کی زیادہ مقدار ذیابیطس کی نشاندہی کرتی ہے۔

السر کا علاج

معدے کے السر کی بیماری ایسڈ ، پیپسن اور پیٹ میں نائٹرک آکسائڈ جیسے دفاعی عوامل کے عدم توازن کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک سائنسی مطالعہ کیلے کے پتوں کی اینٹی السر خاصیت سے متعلق ہے۔ مطالعے کے نتائج بتاتے ہیں کہ کیلے کے پتوں میں فلیوونائڈز اور بہت سے نامیاتی اور غیر نامیاتی مرکبات جیسے الکلائڈز ، اینٹی آکسیڈینٹس اور فینولک ایسڈ ہوتے ہیں جو گیسٹرک میوکوسل چوٹ اور السر کا علاج کر سکتے ہیں۔

بھوک بہتر بنانے میں معاون

بہت سے طویل مدتی اور قلیل مدتی عوارض جیسے جگر کی بیماری ، بخار ، گردے کے مسائل ، فوڈ پوائزننگ اور ہیپاٹائٹس انسان کی بھوک کو کم کر سکتے ہیں۔ کیلے کے پتوں میں لپٹی ہوئی ڈش پیش کرتے وقت بھوک بڑھانے کے لیے مخصوص خوشبو سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔

سانپ کے ڈسنے کا علاج

ایک سائنسی تحقیق میں سانپ کے کاٹنے کے خلاف کیلے کے پتوں کی زہر مخالف سرگرمی کے بارے میں بات کی گئی۔ مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ جب کیلے کے پتے کا عرق سانپ کے زہر پروٹین سے ملتا ہے تو پتیوں میں موجود ٹیننز اور پولی فینول زہریلے پروٹین کو غیر فعال کردیتے ہیں جس سے ان کا اثر کسی حد تک کم ہوجاتا ہے۔ کیلے کے پتے کا پیسٹ سانپ کے کاٹنے پر لگاتے وقت درد سے نجات دلانے میں معاون سمجھا جاتا تاہم اس حوالے سے ابھی سائنسی تحقیق کی ضرورت باقی ہے۔

کھانے کی پیکنگ

کیلے کے پتے روایتی طور پر کھانے کی پیکین میں صحت کی کئی وجوہات کی بنا پر استعمال ہوتے ہیں۔ کیلے کے پتے پلاسٹک کے بیگوں کی نسبت زیادہ بہتر ہوتے ہیں ان میں زہریلے اثرات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ کیلے کے پتے کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بیکٹیریا اور جراثیم کی وجہ سے کھانے کو خراب ہونے سے بھی روکتی ہیں۔ کیلے کے پتے میں لپیٹنے کھانے پینے کی اشیا کو زیادہ دیر تک محفوظ اور تازہ رکھا جاسکتا ہے۔

منفرد ذائقہ

کیلے کے پتے بڑے پیمانے پر کھانا پکانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ابلے ہوئے کھانوں میں کیلے کے پتوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کیلے کے پتوں کو غذا کے جزو کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کیلے کے پتے میں پولیفینول ہوتے ہیں جو کینسر ، دل کی بیماری اور الزائمر جیسی بہت سی دائمی بیماریوں کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔