.
کرونا وائرس

کووِڈ-19 کی نئی مرس طرزکی قسم سے ہرتین میں سے ایک مریض کی ہلاکت کا اندیشہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک نئے تحقیقی مطالعہ میں سائنسدانوں نے کووِڈ-19 کی ایک نئی مگر خطرناک قسم کے بارے میں خبردار کیا ہے۔یہ نئی قسم مشرق اوسط ریسپائریٹری سینڈروم (مرس) وائرس سے ملتی جلتی ہے۔ اس سے متاثرہ ہر تین میں سے ایک شخص ہلاک ہوسکتا ہے۔

سائنٹیفک ایڈوائزری گروپ برائے ایمرجنسیز نے سیج پبلی کیشنز کے تحت لکھے گئے تحقیقی مضمون میں کہا ہے کہ اس بات کا حقیقت پسندانہ امکان موجود ہے کہ یہ نئی قسم مرس جیسی خصوصیات کا حامل ہوسکتی ہے۔

برطانیہ میں مقیم ماہرین نے بتایا ہے کہ اس وائرس کا شکار ہونے کے نتیجے میں بوڑھے افراد اور طبی طور پر کمزورافراد کو’’کم شدید بیماری‘‘ لاحق ہوسکتی ہے۔یہ دونوں گروپ کووِڈ-19 کا سب سے زیادہ شکار ہوئے ہیں۔انھیں اسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت پیش آئی ہےاور ان ہی میں سے زیادہ ترکی اموات ہوئی ہیں۔

اس تحقیقی مطالعے میں کہا گیا ہے کہ کروناوائرس کے مکمل خاتمے کا’’امکان نہیں‘‘ہے اور اس کی شکلیں تبدیل ہوتی رہیں گی۔

مختلف اقسام کا امتزاج

اس مطالعہ میں 'سارس-کووڈ-2 کے طویل مدتی ارتقا' کا تجزیہ کیا گیا ہے۔اس میں ایسے منظرناموں پر غورکیا گیا ہے جہاں کووڈ-19 کی ایک قسم گذشتہ شکل کے مقابلے میں آبادی میں شدید ردعمل کا سبب بن سکتی ہے اور سارس وائرس کی طرح اس سے اموات کی شرح 10 فی صد اور مرس کی طرح35 فی صد ہوسکتی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ تشویش، دلچسپی یا زیرتفتیش دو اقسام کے درمیان ’’دوبارہ امتزاج‘‘اس قسم کے رد عمل کا سبب بنے گا۔اس میں خبردارکیا گیا ہے کہ وائرس کے موجودہ حالات کے پیش نظر ایسا ہونا ایک ’’حقیقت پسندانہ امکان‘‘ہے۔

ویکسین اور مستقبل کی مختلف شکلیں

مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ایک منظر نامہ،جہاں کووڈ-19 کی کوئی قسم ’اینٹی جینک‘ کی وجہ سے دستیاب ویکسین سے بچ جاتی ہے، یہ تجویز کرتا ہے کہ برطانیہ میں وائرس کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچارعمر کے گروپوں کو باقاعدگی سے ویکسین دی جائے تاکہ انھیں وائرس کی غالب اقسام سے بچانے میں مدد مل سکے۔

برطانیہ میں مقیم وبائی امراض کی ایک ماہرڈاکٹر نے ٹویٹر پر عوام کو وائرس کی منتقلی سے متعلق طویل مدتی مضمرات کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ رپورٹ’’سخت انتباہ‘‘ہے۔ایسا لگتا ہے کہ ہم اسی راستے پر چل رہے ہیں جو ہمیں اس تباہ کن نتیجے تک لے جائے گا۔‘‘

ایک ٹویٹ میں انھوں نے کہا کہ ڈیلٹا کے اثرات کے پیش نظر اور سی ڈی سی کے حالیہ شواہد کی روشنی میں، ہم وائرس کی مزید نئی مختلف شکلوں کے ابھرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے- ہمیں اب احتیاطی تدابیراختیارکرنے کی ضرورت ہے۔

انھوں نے مزید لکھا:’’کچھ لوگ یہ تجویز کررہے ہیں کہ سارس-کووِڈ-2 زیادہ نرم ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے (حالانکہ اس کی اس حقیقت سے تردید ہوتی ہے کہ کئی اور شدید اقسام پہلے ہی ظہورپذیرہوکر پھیل چکی ہیں)،اس کے برعکس مزید شدید اقسام سامنے آرہی ہیں اور اسی کو 'حقیقت پسندانہ امکان' سمجھنا چاہیے۔‘‘