.

دبئی کا ' میوزیم آف دی فیوچر " دنیا کے 14 خوبصورت ترین عجائب گھروں میں شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نیشنل جیوگرافک نے دبئی کے ' میوزیم آف دی فیوچر ' کو دنیا کے 14 خوبصورت ترین عجائب گھروں میں شامل کرلیا جوکہ منفرد نمایاں طرزتعمیر اور حساس ترین تکنیکی تخلیقی صلاحیت کا اعتراف ہے ۔۔

یہ میوزیم ، طرزتعمیر کا ایک شاہکار ہے جوکہ دبئی کے مصروف قلبی مقام پر ہے ، تکمیل پر یہ دنیا کا ایک اور لینڈ مارک بن جائے گا۔

دبئی فیوچر فاؤنڈیشن کے ایم ڈی اور بورڈ چیئرمین محمد القرقاوی کا کہنا تھا کہ اس میوزیم کا تعمیر سے قبل ہی دنیا کے اہم ترین مقامات کیلئے انتخاب ہونا تخلیق ، ڈیزائن اور طرز تعمیر کیلئے متحدہ عرب امارت کو دنیا نمایاں مقام بخشتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دبئی نے خود کو تخلیقی مرکز کے طور پر ثابت کیا ے ، یہ نائب صدر و وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کے ویژن کی مرہون منت ہے، یہ میوزیم اپنی تکمیل سے قبل ہی دنیا کے خوبصورت ترین عجائب گھروں میں شامل ہوا ہے۔

یہ مستقبل کیلئے متحدہ عرب امارات اور دنیا کا گیٹ وے ہے جسے جدید ترین ٹیکنالوجیز سے لیس کرکے بنایا جا رہا ہے۔ اس کیلئے دنیا بھر سے ماہرین ، تخلیق کار اور پیشہ وروں کو شامل کیا گیا تاکہ انسانیت کے مستقبل کی شکل والے اس چیلنج میوزیم کی تعمیر ہوسکے ، اپنی تکمیل پر یہ لوگوں کو مستقبل کا منظر پیش کرے گا ۔

یہ میوزیم 30 ہزار مربع میٹر پر مشتمل ہے ، اس کے ڈھانچے کے ستون سات منزلہ اور عمارت 77 میٹر بلند ہے ، اس کا پیش منظر سٹین لیس سٹیل کا ہے جوکہ 17 ہزار مربع میٹر پر پھیلا ہے ، اس میں 14 ہزار میٹر عربی خطاطی کی گئی ہے جسے اماراتی آرٹسٹ مطر بن لھج نے ڈیزائن کیا۔ عربی خطاطی میں عزت مآب شیخ محمد بن راشد المکتوم کے کئی قول پیش کیئے گئے ۔

ان میں " ہم شاید سینکڑوں برس زندہ نہ رہیں لیکن ہماری تخلیقی مصنوعات ہمارے بعد طویل عرصہ تک میراث رہے گی " اور " مستقبل انہی کا ہے جو اسکا تصور کرتے ہیں، اس کو ڈیزائن کرتے ہیں اور اسے انجام دیتے ہیں ۔۔ مستقبل انتظار نہیں کرتا ۔۔ مستقبل کو آج ہی ڈیزائن کرکے اسکی تعمیر شروع کرنا ہوگی " ، شامل ہیں –

یہ میوزیم تخلیقی ڈیزائن میں پائیداری کی ایک مثال بھی ہوگا ، اسے 4 ہزار میگاواٹ شمسی توانائی سے چلایا جائے گا جسے دبئی الیکٹرک اینڈ واٹر اتھارٹی کے تعاون سے بنایا گیا ہے ۔

اپنی تکمیل کے بعد یہ میوزیم مشرق وسطی کا پہلا میوزیم ہوگا جوکہ ماحولیاتی توانائی ڈیزائن میں پلاٹینیئم سرٹیفکیٹ کا حامل ہوگا جوکہ دنیا میں سبز عمارت کیلئے بلند ترین ریٹنگ کا معیار ہے۔

میوزیم سے ملحقہ پارک میں 80 اقسام کے پودے لگائے گئے ہیں جنہیں جدید ترین خودکار آبپاشی نظام سے منسلک کیا گیا ۔ اس میوزیم نے تکلا انٹرنیشنل بلڈنگ ایوارڈ بھی جیتا ہے جوکہ منفرد طرز تعمیر کی مثال کیلئے ہوتا ہے ۔

آٹو ڈیسک ڈیزائن سافٹ ویئر کا کہنا ہے کہ یہ میوزیم دنیا بھر میں سب سے زیادہ تخلیقی نوعیت کی عمارت ہے ۔ اس کی ڈیزائننگ انجینئر شون کیلا نے کی تھی۔