.
کرونا وائرس

ماسک کی مقبول عام قسم کووِڈ-19 سے تحفظ مہیّا نہیں کرتی: امریکی ماہر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماسک کو کووِڈ-19 کے خلاف سب سے مؤثر حفاظتی اقدامات میں سے ایک سمجھا جاتاہے لیکن ایک امریکی ماہر کا کہنا ہے کہ کپڑے سے بننے والے ماسک یا کپڑے سے بُنا چہرے کا غلاف وائرس سے بچاؤ میں کوئی اتنا زیادہ مؤثر نہیں ہے۔

یونیورسٹی آف مِنیسوٹا میں مرکز برائے تحقیق اور پالیسی وبائی امراض کے ڈائریکٹر مائیکل اوسٹرہولم نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’لوگوں کو چہرے کے غلاف اور کپڑے کے ماسک کواین 95 جیسے زیادہ مؤثر ماسک میں تبدیل کرنا چاہیے۔‘‘

امریکا کے مرکز برائے انسداد وبائی امراض ( سی ڈی سی) نے اگرچہ یہ تجویز کیا ہے کہ کپڑے کے ماسک اب بھی کچھ حد تک وائرس سے بچاؤ میں تحفظ مہیا کرتے ہیں لیکن کپڑے کی قسم، پرتوں کی تعداد اور چہرے کو ڈھانپنے کی بنیاد پر یہ مختلف درجوں کی سطح پر مؤثر ہوسکتے ہیں۔

سی ڈی سی کے مطابق تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اعلیٰ دھاگے کی بُنت والے کپڑے کی متعدد پرتیں ماسک سے زیادہ مؤثرثابت ہوسکتی ہیں۔زیادہ تر ماسک ایک پرت والے کپڑوں کے ہوتے ہیں اور ان میں 50 فی صد تک باریک ذرّات کو فلٹر کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

اوسٹرہولم کے مطابق ’’ماسک کے تصور پر زیادہ بڑے پیمانے پرغورکرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں این 95 ماسک کے بارے میں بات کرنی چاہیے۔ یہ ماسک ان لوگوں کے لیے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے،جنھیں ابھی تک ویکسین نہیں لگائی گئی ہے یا جواس سے پہلے وائرس سے متاثر نہیں ہوئے ہیں۔‘‘

سی ڈی سی نے ’کے این 95‘ اور این 95 ماسک کو سب سے مؤثر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’’انھیں اس انداز میں ڈیزائن اور ٹیسٹ کیا گیا ہےکہ وہ کووڈ-19 کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مستقل طور پر کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔‘‘

لیکن ڈاکٹر اوسٹرہولم تو سرے سے ماسک ہی سے چھٹکارا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے بہ قول اس کا مطلب یہ ہے کہ ’’آپ اپنے چہرے کے سامنے جو کچھ بھی رکھتے ہیں، وہ کام کرتا ہےاوراگر میں اس میں ایک باریکی شامل کرسکتا ہوں جس سے امید ہے کہ مزید الجھن میں اضافہ نہیں ہوگا تو آج ہم جانتے ہیں کہ لوگوں کے اسعتمال میں آنے والے کپڑے کے بہت سے غلاف وائرس کی کسی بھی حرکت کو اندر یا باہر روکنے یا کم کرنے میں زیادہ موثر نہیں ہیں۔‘‘

دوسری جانب امریکا کی خوراک اور ادویہ انتظامیہ (ایف ڈی اے) کے سابق کمشنر سکاٹ گوٹلیب کا کہنا ہے کہ ’’اب افراد کو کرونا وائرس کی نئی ڈیلٹا قسم سے خود کو بچانے کے لیے اچھے معیارکا ماسک پہننے کی ضرورت ہے۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ’’ماسک کے معیار سے کوئی فرق پڑتا ہے لیکن اگر آپ ’کے این 95 ماسک‘‘ یا این 95 ماسک خرید کرسکتے ہیں تو اس سے آپ کو زیادہ بہتر تحفظ ملے گا۔‘‘

عالمی ادارہ صحت نے لوگوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ وائرس سے محفوظ رہنے کے لیے اپنے ارد گرد لوگوں کی موجودگی میں ماسک پہن کررکھیں۔نیز ماسک کا مناسب انداز میں استعمال، کسی جگہ رکھنے اور صفائی یا ٹھکانے لگانے کے عمل میں احتیاطی تدابیراختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

ڈبلیو ایچ او کی ویب سائٹ پر لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ انھیں چہرے پر ماسک پہننے یا ٹھکانے لگانے سے پہلے اور بعد میں اپنے ہاتھ دھونا چاہییں۔انھیں یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ماسک کو ناک، مُنھ اور ٹھوڑی کو ڈھانپنے کے لیے مناسب طریقے سے پہنا جائے اور استعمال شدہ ماسک کو ردی کے ڈبے میں پھینکنا ضروری ہے۔اگر کوئی ماسک دوبارہ قابل استعمال ہے تو اس کو ہر روز دھونا ہوگا اور اسے پلاسٹک کے صاف تھیلے میں رکھنا ہوگا۔