.

روشنی اور سائے سے خوبصورت فن پارے بنانے والے سعودی تخلیق کار سے ملیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انٹیریئر ڈیزائنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے ایک سعودی نوجوان نے اپنے خیالات کو فنکارانہ پینٹنگز میں ڈرائنگ اور مختلف فنون میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ آرٹ اور فنون لطفیہ سے اسے بچپن ہی سےغیر معمولی شغف تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ بھی ایک روز دوسروں کی طرح ایک کہنہ مشق آرٹسٹ بن جائے۔ اس نے اسکول دور سے ڈرائنگ شروع کردی تھی اور "تاثراتی حقیقت پسندی" میں ممتاز مقام کے حصول کے لیے سفر شروع کردیا تھا۔

فائن آرٹسٹ سلمان الامیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سےگفتگو کرتے ہوئے آرٹ ورک یا فن پاروں میں غیر ضروری تفصیلات سے گریز کرتے ہوئے روشنی اور سائے کے اثرات کو پینٹنگ میں تبدیل کرنے کے فن پر روشنی ڈالی۔اس کے اس آرٹ نے مروجہ کلاسیکی آرٹ سے الگ اور ممتاز بنا دیا۔

ایک سوال کے جواب میں الامیر نے کہا کہ میں نے ریئل اسٹک ارٹ سے آغاز کیا۔ اس فن کو سیکھنے کے لیے ایک فائن آرٹ اسکول میں داخلہ کیا۔ تاہم اس سے قبل اس نے 12 سال تک ڈرائنگ کی مشق کرنا چھوڑ دی تھی۔ اس نے دوبارہ آرٹ کی تعلیم کی طرف پیشہ ورانہ بنیاوں پر واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ پہلی فرصت میں اس نے ڈرائنگ کی مہارت کے بنیادی اصول سیکھے۔ یہ مہارت چیزوں کی ساختی تعمیر کی درستی کے لیے ضروری تھی اور رنگوں، روشنیوں اور سائے کے ذریعے بنائی جانے والی پینٹنگز کے لیے ضروری تھی۔

پورٹریٹ ڈرائنگ

الامیر نے مزید کہا کہ عمر کے اس حصے میں پہنچ جانے کے بعد میں نے آرٹس کے اس رنگ کو پسند کیا اور اس کے بعد آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔ میں نے ایسے نمونوں پر عمل کیا جن کے مضامین کے لیے بڑے تخیل کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے میں نے فن تعمیر اور داخلہ ڈیزائن کی مشق سے فائدہ اٹھایا اور اس میدان میں عموما تخیل کی ضرورت ہوتی ہے کسی چیز کے عدم سے وجود میں لانے کا خیال ہوتا ہے۔چونکہ اس طرح کا تخیل کا جذبہ پچیس سال پر محیط تھا۔ مگر میرے پاس اب تخیل کی توانائی بہت کم ہے۔تصویر کشی یا اپنے نقطہ نظر سے زندہ ماڈل بنانے کے لیے اس تخیل کی ضرورت نہیں۔ مضامین میری آنکھوں کے سامنے تیار ہیں۔ جس چیز کی مجھے ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ اس موضوع پر غور کریں کہ اور اس کو فلیٹ میڈیم پر ڈھالنے کی کوشش کریں۔

ڈرائنگ کے دو مقاصد

آرٹسٹ سلیمان الامیر نے کہا کہ میں دو اہم اہداف کے لیے پینٹنگ کرتا ہوں۔ ان میں سے پہلا تعلیمی بنیادوں پر ایک فنکار کی بحالی ہے اور اپنے اوزار اور فن کے خیال اور ہدف کے بارے میں اپنے وژن کو استعمال کرنے کے قابل بنانا اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ علم کو نئی اور ابھرتی ہوئی نسل میں منتقل کرنا۔ نئی نسل کو فنون لطیفہ کی تاریخ میں ثقافت کے پہلوؤں کو روشناس کرنے کی ضرورت ہے۔ آرٹ کے تنقیدی نظریات کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ فن کے فلسفے سے آگہی پیدا کرنا تاکہ وہ تخلیقی اور گہرے موضوعات کا بوجھ بھی اٹھا سکے۔

مستقبل کی خواہشات

اپنی گفتگو میں مصور الامیر نے اس بات کی تصدیق کی کہ انہیں فن تعمیر اور فائن آرٹ میں انضمام کا جنون ہے۔ فن تعمیر میں اپنی مہارت کے برعکس اس خواب کو حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں جس میں یہ دونوں فنون ایک ہوجائیں۔ خاص طور پر فنکارانہ، ادبی اور تعمیراتی تخلیقی صلاحیتوں کے درمیان فرق کی عدم موجودگی میں مشترکات ہیں۔ آلات کے اعتبار سے دونوں میں کئی قدریں مشترک ہیں۔ پہلا یہ کہ تخلیق کو ہرطرح کی قید سے آزاد ہونا چاہیے۔ آرٹ اور ذات پر تنقید تخلیقی عمل کا آخری مرحلہ ہونا چاہیے۔ہر تخلیقی خیال کے لیے ذہنی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔وہاں سے ہی ہم چیزوں کو وضاحت کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں۔