.

غریب الوطنی کیا چیز ہوتی ہے؟ یہ تصویر دیکھیے!

طالبان سے فرار کے متلاشی امریکی جیٹ کے فلور لوڈ مسافر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کابل ایئر پورٹ سے روانہ ہونے والے امریکی سی 17 طیارے پر کئی سو افغان شہریوں نے سوار ہونے کی کوشش کی تھی اور ان میں کئی جہاز کے آدھے کھلے ریمپ یا دروازے سے اندر گھسنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

جہاز کے فرش پر بیٹھے ان مسافروں کو نہ اپنی اگلی منزل معلوم تھی اور نہ ہی ساتھ کوئی زاد راہ ۔۔۔ بے سرو سامانی کے عالم میں بیٹھے ان مسافروں کے چہروں سے سراسمیگی اور اداسی نمایاں طور پر جھلک رہی ہے۔ جہاز کے اندر سے ان کی بے بسی کی اتاری گئی تصویر عسکری ذرائع نے ہی وائرل کی ۔۔۔۔ جسے دیکھ کر غریب الوطنی کا مفہوم بآسانی سمجھا جا سکتا ہے!

پرواز سے قبل ایئر ٹریفک کنڑولر نے پائیلٹ سے دریافت کیا ۔۔ ’’او کے بتائیں، آپ کے جیٹ پر کتنے لوگ سوار ہیں؟ کیا آپ کے جہاز پر 800 افراد سوار ہیں؟‘‘ بہت خوب، اڑان بھرنے لگا ہوں۔ سی 17 گلوبی ماسٹر III میں کابل چھوڑنے والے افراد کے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔

یہ طیارہ طالبان کے کابل میں داخل ہونے سے کچھ ہی دیر قبل ہی اڑا تھا تاہم ان لوگوں کو باہر نکالنے کے بجائے طیارے کے عملے نے انھیں جہاز میں جگہ دی اور اس طرح 640 افراد امریکی اہلکاروں سمیت قطر پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔

کابل سے قطر جانے والی سی 17 طیارے میں سوار ہونے والوں کی یہ سب سے بڑی تعداد ہے۔ اس طیارے کا کال سائن ریچ 871 ہے۔

امریکی دفاعی حکام کے مطابق اس طیارے میں 640 کے قریب افغان شہری سوار تھے، جو کہ بہت بڑی تعداد ہے۔ پرواز کو ٹریک کرنے والی ویب سائٹ کے مطابق یہ طیارہ 436 ایئر ونگ ڈیلاویئر کے ڈوور ایئر فورس بیس کا ہے۔

ماضی میں سی-17 نے لگ بھگ 670 افراد کو فلپائن میں آنے والے طوفان سے بچایا تھا۔ ایسے عمل کو فضائیہ کی زبان میں ’فلور لوڈنگ‘ کہتے ہیں۔
دنیا بھر اور بالخصوص امریکہ میں ایئر فورس کے طیارے کے عملے کو افغان شہریوں کو کابل سے نکالنے پر خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے