طالبان کے لیے ٹویٹ حلال اور ٹرمپ پر حرام ۔۔۔ سابق امریکی صدر کا گلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ہے طالبان ایسے جنگجوؤں کو ٹوئٹر پلیٹ فارم کے ذریعے پیغام رسانی کی اجازت ہے جبکہ مجھے اس حق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔

’’میکس نیوز‘‘ نامی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے ٹوئٹر انتظامیہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ آپ کے لیے یہ بات انتہائی ہتک آمیز ہے کہ جب ٹوئٹر آمروں، چوروں اور قاتلوں کو اپنا پلیٹ فارم استعمال کرنے کی اجازت دے رہا ہے اور اس کے مقابلے میں اس نے کئی ملین فالورز رکھنے والے امریکا کے سابق صدر کو عوامی رابطے سے محروم کر رکھا ہے۔

اس کے مقابلے میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاھد کو ٹوئٹر کے ذریعے تنظیم کے خبریں جاری کرنے کی اجازت ہے جبکہ دنیا کو معلوم ہے کہ ان کے عسکری طالبان نے کس طرح کابل ائر پورٹ کا کںڑول حاصل کیا۔

بدھ کے روز تک ذبیح اللہ مجاھد کے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر تین لاکھ بائیس بزار فالورز موجود تھے۔

ٹوئٹر کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان میں صورت حال تیزی سے بدل رہی ہے اور وہاں پر لوگ اپنی مدد کے لیے ٹوئٹر کا پلیٹ فارم استعمال کر رہے ہیں۔

ترجمان کے مطابق ٹوئٹر پلیٹ فارم عام الناس کی سلامتی کو پہلی ترجیح دیتا ہے۔ اہم اپنے پلیٹ فارم سے نشر ہونے والے مواد کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں اور انہیں پلیٹ فارم کے وضع کردہ قواعد وضوابط سے ہم آہنگ بنانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ اس ضمن میں اکاؤنٹس کے ذریعے انتہا پسندی کی ترویج پر کڑی سزا دینے سے گریز نہیں کرتے۔

یاد رہے کہ ٹوئٹر نے رواں برس 08 جنوری کو کانگریس کی عمارت پر حملے کے بعد سابق امریکی صدر کا اکاونٹ منجمد کر دیا تھا۔ اس وقت آٹھ ملین افراد انہیں فالو کر رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں